حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 73 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 73

مصباح ریوه 73 دسمبر ۱۹۹۳ء واپسی کا سفر بھی دکھاؤں میں گزرا یہ اجمین انت سب سے مشکل سیکیورٹی کی ڈیوٹی خود نی اور کراچی ٹھہرنے کی دعوت دی۔کی ٹیم کے ساتھ جانفشانی سے ادا کی۔صبح تہجد کے لئے بیت المبارک جانتے بیٹڑھیوں پر بھی جگہ ملنا رہا کہ قادیان کا قیام ہر لمحہ دعاؤں اور خدمت تخت شاہی سے بہتر لگتا۔نما نہ فجر کے بعد بہشتی میں گزرا۔مقرے جاتے۔جانے والے تو چلے جاتے ہیں گھر اپنے پیچھے جس روز کو اچھا کی مستورات کی حضور انمٹ ، خوبصورت اور حسین یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔سے ملاقات تھی شناختی کارڈ نہ نہیں بنتے بشریا تو لینہ کراچی کے گلستان میں ایک ہوئے تھے۔یہاں پھر بیٹری نے ایثار سے کام لیا۔مجھے جھکتا ہوا تر و تازہ پھول تھیں جس کی خوشبو ہم بیت المبارک میں ڈیوٹی کے لئے بھیج دیا محمد کارڈ نہ سب کو معطر کئے ہوئے تھی۔احمدی خواتین اور بنانے لگی۔آقا کے دیدار کے لئے ترسی ہوئی بڑے بچیوں کی دینی ، علمی اور اخلاقی تربیت کے لئے ہر سکون سے بولی۔میرے لئے آنا کی حفاظت مقدم وقت کوشاں رہتیں۔دوسروں کی ہمدردی اور ہے۔جب تاریخ ہو کر آئی تو ملاقات کا وقت ختم ہو خیر خواہی میں اپنی ذات کو یکسر مٹا دیتی۔چکا تھا۔ملاقات کے دوران حضور نے نام لے کہ یاد وہ لجنہ کے ہر فنکشن کی رونق اور روح روان بھی فرمایا تھا۔ایک بشری کا اور دوسرا امتہ الباری تھیں۔ہر محفل اس کے ساتھ سچ جاتی تھی۔سب ہی کو اس کے آنے کا شدت سے انتظار رہتا۔ہر محفل میں جس روز پاکستان کی خواتین کی ملاقات ہوئی ہر وقت ہنستی مسکراتی اور چہکتی ہی دکھائی دیتیں۔ناقر کا تھی بشری ایک کونے میں بیٹھی تھی۔پیارے آقا کی نظر پڑی تو فرمایا " سنا ہے تم بہت کام کرتی ہو" اور فرمایا سعودی تم تو بالکل ویسی ہی ہو جیسی نہیں آٹھ سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔باقیوں میں پھر بھی وہ ہماری احمد یہ ہال کی گیلری کا زیور اور ترینیت تھیں۔وہ مخلوق خدا سے بے انتہا محبت اور پیار کرنے والی تھیں وہ حسن بیت کے ساتھ حسن صورت کا کسی نہ کچھ تبدیجی دیکھتی ہے۔اس کے بعد سیرت کے جالیوں مجمہ تھیں۔وہ سرا با سیرت کے رنگ میں رنگی ہوئی تھیں کا ذکرہ فرمایا اور لجنہ لا ہور کو کہا کہ اس کو بلا کہ بے لوث خدمت دین پرده دم آخر تک قائم رہیں۔حقیقت میں اس نے با عمل زندگی گزاری۔وہ وقت نتظار برش نہیں۔قادیان میں غیر مسلم خواتین سے پیار اور عزت کا صحیح مصرف جانتی تھیں اور ایک وقت میں کئی سے باتیں کرنے کی وجہ سے وہ بیٹری کی ایسی گردیدہ ہوہیں کام کرتی تھیں۔کہ گھروں پر اصرار سے بلایا۔ہم تحائف لے کر گئے سیرت کے جلسوں کے حوالے سے کون ان کو انہوں نے بھی تحائف دیئے اور آئندہ اپنے یہاں نہیں جانتا۔سیرت کے موضوع پر تقریمہ میں ان کا