حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 72 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 72

مصباح دیوه 4 72 د نمبر ۱۹۹۳ء اتنی رقم اللہ پاک نے بھیج دی۔ہوتا یہ ہے کہ داؤد قادیان کا سفر کریں گے بشری کی یاد بہت تڑپائے گی۔بھائی کہیں نہ کہیں کام کرتے رہتے ہیں۔کوئی پل کی قیم وہ نماز عصر کے وقت احمد یہ ہال پہنچ جاتی۔کافی کھانا جلدی دے دیتا ہے کوئی دیر سے دیتا ہے۔دراصل اللہ پکا کر ساتھ لے لیتی۔نماز عصر کے بعد درس پھر مغرب پاک اپنی محبوبیت کی شان دیکھاتا ہے اور جب ضرورت پھر کھانا پھر تراویح سب ہال میں ہوتا۔درمیان میں پڑنے پر اس کا در کھٹکھٹایا جائے وہ ضرورت کی رقم ذراسی فرصت میں وہ سلائی کڑھائی بیلیں ٹانکنے عنایت فرما دیتا۔اس وقت یہ احساس ہوا تھا کہ بشر کی کا کام کرتی یا کچھ لکھتی رہتی۔نے چادر سے باہر تک پاؤں پھیلائے ہیں مگر اب طوبی قادیان جانے سے پہلے کثرت سے دُعا کی کہ کے دامن میں آمین کی تقریب کی حسین یاد بھی ماں کی وہاں ہر لمحہ سو نہ گزر ہے۔خدمت کا کوئی موقع یادوں کے سرمائے میں سر فہرست ہوگی۔ہاتھ سے جانے نہ پائے۔سفر شروع ہوا۔امیر قافلہ بچوں کی تربیت کا انداز بھی نرالا تھا۔بظاہر محترمہ مبارکہ ملک صاحبہ تھیں۔مگر عملی سان منصور بازی محسوس ہوتا تھا کہ سختی کرتی ہے۔مگر جس طرح توپ کا بار بہتری نے خود اٹھایا۔فہرستیں بنانا، جگہ بناکر تڑپ کر وہ اُن کے لئے دُعائیں کرتی اور تربیت کا دینا، ہر ایک کے آرام کا خیال رکھتا اور اس کے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی وہ اسی کا حصہ تھا۔ساتھ شوق کا یہ عالم کہ خرابی صحت کے باوجود چہرہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عملی درس اُس کے گھرانے کھلا ہوا پر منطف شگفتہ باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔کو از بر تھا۔جماعتی ڈیوٹی کے لئے سب بشاشت سے کبھی کبھی تکلیف کی بہری قابو سے باہر ہو جاتیں تو تیار رہتے اور صف اول میں کام کرنا پسند کرتے۔اُسے زبر دستی لٹانا پڑتا۔اس کی باتوں میں علمی رنگ بزرگوں کی خدمت اور عزت خوب اچھی طرح سکھائی۔مامی بخشیں ، دعوت الی اللہ کے واقعات سیرة کے بچے گھر سے بہاتے یا گھر سے رخصت ہوتے چھٹا کر پیار جلسوں کا ذکر رہتا۔اس کے علاوہ اسے بے حد دلچسپ کہ کے دُعاؤں سے رخصت کرتی۔مطبقے یاد تھے جو وہ اپنے مخصوص انداز میں بیان تور جهان در حقیقت جنت کی حور تھی جسے کرتی تو ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑھاتے۔یہ خدا تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے دنیا میں بھیج دیا تھا۔لطیفے اُسے اُس کے بھائی باسط کے توسط سے محاصل وہ اپنے سجے سجائے گھر میں خود کی طرح یہ بہتی تھی۔ہم ہوتے۔مدرسہ احمدیہ میں قیام کے دوران بھی ذرا سا اس کی محنتوں کے نشے میں مگن تھے۔یہ سوچا بھی نہ موقع ملنے پر شگفتہ محفل لگ جاتی جس کی ایک ایک تھا کہ اتنی جلدی وہ ہمیں چھوڑ کے دور دیس جا یاد اب بے قرارہ کہ رہی ہے۔کمرے کے باہر دفتر بند کراچی کا لوڈو شہری نے لگایا اور منظم طریق پر۔۔ہے گی۔to یوں تو بشری زندگی میں ہر مرحلے پر یاد آئے تخدمت خلق ، سامان کو صحیح شخصوں تک پہنچانے ، گی۔مگر جیب سبب بھی رمضان المبارک آیا کرے گا اور ڈیوٹیاں لگانے اور دیگر معلومات کا کام شروع کر دیا۔