حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 46
مصباح ریون NY 46 دسمبر ۱۹۹۳ء وہ مجود وسما کا شہزادہ تھا بھوک مٹانے آیا تھا لڑکیوں کو سمجھاتی۔اچھی باتوں کا سرا مینا اُس کی عادت یہ بھوکوں کے ہاتھوں کی روٹی چھین کے کھانے والے ہیں میں شامل تھا غیرانہ جماعت بہنیں ایک خاص انداز کے میلاد بشری نے کراچی میں لمبا عرصہ کام کیا کئی صدروں کی عادی ہوتی ہیں " پڑھنے والی کا صی وضع کی خاتون کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔وہ سب کے ساتھ ایک ہی سٹائل سے سیرت نبوی کے ایسے پہلوؤں کو انتہائی ادب اور محبت سے کام کرتی۔محترمہ آیا نصیرہ بیان کرتی ہیں جن میں روایت ہے سے شروع کر کے بیگم صاحبہ کہا کرتی تھیں جب بیٹری کو ایسی جگہ غصہ یا جھوم جھوم کے ایک ہی قسم کی مبالغہ آمیز بغیر سند کی جوش آجاتا جہاں تحمل کی ضرورت ہوتی تو یکی اُس روایات شامل ہوتی ہیں۔یہ خواتین جب ہمارے جلسوں کا ہاتھ پکڑ لیستی بیشتری سمجھ جاتی اور فوراً اطاعت میں میں آتی ہیں اور پڑھی لکھی خواتین سے پر مغز تقاریر خاموش بیٹھ جاتی۔آیا سلیمہ میر صاحبہ بھی بشری کو سنتی ہیں۔تو ایک ہی جلسے سے اُن کی کایا پلٹ بے حد پیار کرتی ہیں۔اور اس کی صلاحیتوں کی معترف جاتی ہے۔خاص طور پر خوش و ضع خوش لباس بشر کا ہیں اس کی صحت کا فکر ہوتا۔بڑی دردمندی سے کہتے ہیں کا پُرکشش اندازه تقریر اور اس میں سیرت کا مبسوط ینٹری اپنا تو جہ سے علاج کرواؤ تمہارے بچوں کا بیان بہت بھلا لگنا۔بشرکی جن جلسوں میں نظریں کرتی بھی تم پر حق ہے۔عجیب انداز سے جواب دینجا۔" یہ ان کی حاضری میں اضافہ ہو جاتا۔جلسے کا انتظام کرنے بچے میرے تھوڑا ہی ہیں۔اللہ پاک کے ہیں وہ چاہے والی عمیر بھی جلسہ گاہ کی تیاری کے بعد بشری کے آنے پر گا کہ میں اچھی ہو کہ ان کی خدمت کروں تو مجھے اچھا سبکدوش ہو جاتی کہ اب وہ ہر طرح سنبھال لے گیا۔کر دے گا " صدروں کے علاوہ مجلس عاملہ کی میرات ، بشری اپنے لئے نمایاں جگہ کبھی پسند نہ کرتی۔فرش اپنے شعیر اصلاح و ارشاد کی عہدیداروں سے تعاون پر بیٹھتا اسے مرغوب تھا اسی طرح جلسوں پر بھانے اور قلبی تعلق رکھتی۔لجنہ کراچی ، کا نام ہمیشہ اونچا کے لئے سواری طلب نہ کرتی۔بس کے ذریعہ چلی جاتی۔دیکھنا پسند کراتی - اتحاد اور یک جہتی کی برکت کو خوب اگر کوئی از خود انتظام کر دے تو اس سہولت سے سمجھتی تھی۔کہیں انتظامی جھول دیکھتی تو نیک نیستی اور خلوص سے یہ ملا اصلاح کی کوشش کرتی اگر بھی فائدہ اُٹھاتی۔اس کے شوق بے پایاں میں دوسری مقررات عملاً کچھ نہ کو سکتی تو دعا ضرور کرتی کہ ہماری تلاش کر کے ان کو تقریر کا فن سکھانا بھی شامل تھا۔کمزوریوں کی پردہ پوشی ہوتی رہے۔اُسے منافقت کئی دفعہ اپنے دوسرے کام میں مصروفیت کے دوران پر بڑا غصہ آتا۔ہماری نجی محفلوں میں بشری کے تپ وہ لڑکیوں کی تقریریں درست کر رہی ہوتی۔جب اجتماعات جانے کو " بشری میں پر اتر آنا کہتے تھے۔میں اسے منصف بنایا جاتا وہ بڑی توجہ سے لڑکیوں کی بشری نے ۱۹۸۹ ء میں جلسہ سالانہ کراچی میں تقای پرش کہ اچھے اور کمزور نکات نوٹ کوتی اور پھر خطاب کیا۔یہ کسی خاتون کا پہلا خطاب تھا جو مردوں