حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 42 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 42

مصباح ريحة - 43 م دسمبر ۱۹۹۳ء آنا پڑا۔ایران کی آسائشوں کے بعد تنگی ترشی کا زمانہ اب آمادہ ہوئی تو نئے افراد احمدیت میں شامل کرنے کا انتہائی صبر و استقامت سے گزارا۔۱۹۸۱ء میں ٹارگٹ آگیا۔اس نے بستر پر لیٹے لیٹے فون کو کر کے حضرت امام جماعت احمدیہ الثالث نے کہا اچھی لجنہ کی کام کروایا۔تڑپ تڑپ کر دعائیں کیں۔اتنی بے چین تنظیم توڑ کر ایک پانچ رکنی کمیٹی نامزد فرمانی معین کی تھی کہ اس کی حالت دیکھ کر دل کہتا تھا سب زیادہ ایک رکن یشرکی واڈو تھیں۔حضور نے خاصی امور کی دعائیں کریں تا کہ منزل قریب نہ آجائے اُس نے ہسپتال طرف توجہ دلائی تھی اور پندرہ روزہ رپورٹ ارسال میں داخل ہو کر بھی کام جاری رکھا۔ارد گرد کی خواتین فرمانے کی ہدایت فرمائی تھی۔سب ممبرات کو انتھک نے اُس کی امی کو مبارک باد دی کہ آپ کی بیٹی وعظ جان توڑ کام کرنا پڑا۔ہر حلقے میں دورے اور تربیتی کرتی ہے تو دل کرتا ہے۔سب کام چھوڑ کے میں اس اجلاس کی وائے گئے۔بشری نے طوفانی دورے کر کے کو سنتے جائیں۔لیکن ہسپتال میں اُس سے ملی تھی کام کو بہت آگے بڑھا یا پھر قیادت نمیرہ کے کام میں ہشاش بشاش تھی۔اپنے نئے احمدی بنانے کے کچھ بہتری لانے کے لئے بشری کو قیادت کا نگران بنا ٹارگٹ کی باتیں کہتی رہی۔دیا گیا۔عہدے سے انصاف کرنے کو جڑو ایمان ۲۰ جولائی کی سہ پہر کو ہولی فیملی سے ڈاکٹر سمجھنے والی نے اس ذمہ داری کو بھی با حسن پورا کیا کا فون آیا اور اُس نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ ہماری پھر سیکریٹری اصلاح و ارشاد بنا دی گئی۔تادم آخر وہ پیاری بشری مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئی ہے۔یہی فریضہ سر انجام دے رہی تھی۔اتنی سرگرمی سے خدا کے ہیں خدا کے پاس سب کو لوٹ بھاتا ہے کام کرنے کی وجہ سے اپنی شرابی صحت کو ہمیشہ یہ دنیا عارضی ہے مستقل وہ ہی ٹھکانا ہے ٹالتی رہی۔اُسے کئی عوار من لاحق تھے کبھی بالکل بے دم ہو جاتی مگر پھر کوئی کام آجاتا تو اپنا نفس بھلا کے گھر گھر رہتی پس پشت ڈال کے بچوں کو سے بڑے آرام سے جان دے دی۔صبر کی تلقین کر کے کام میں محبت جاتی۔پہرا ہم جیسے جین سعادت مندی سے وہ ساری عمر خدا تعالیٰ کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کرتی تھی اسی معان و مندی اُس کے ضعیف العمر والدین کی ایسی بیٹی قصت پر مشکل ترین ڈیوٹی اس کو سونپ دی جاتی اور وہ ہو گئی جو کبھی صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔لجنہ کہ اچھی ڈیوٹی ہو یا نہ ہو۔ہلکان ہونے کی کوئی نہ کوئی صورت سے غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک عہدیدار رخصت ہو گئی۔نکال لیتی۔وہ جماعت کے کاموں کو ترجیح دیتی اور مجھے اب وہ بڑی کبھی نہیں ملے گی جو دکھ سکھ اور صحیح معنوں میں دین کو دنیا پر مقدم رکھتی۔کام میں ہمدم و رفیق تھی جو کہتی تھی تم سے تو میں اس کام اور میں کام تیزی سے ، جلدی سے مستعدی طرح بات کرتی ہوں جیسے انسان خود سے باتیں کرتا ہے۔سے کرنے کی عادی تھی۔تین چار سال سے اپنے ہم کوئی دو نہیں تھے۔داؤد بھائی سے ان کی مجسم آپریشن کو کام ہی کی خاطر ٹالتی آرہی تھی حتی کہ سکیت با وفا جیون ساتھی اور عبد الرحمن ناصر العمر