حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 41 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 41

مصباح ریوہ دسمبر ۱۹۹۳ء رکھتی ہے۔سب دنیا کی عالمگیر جماعتوں کی طرف سے میں دلچسپی تھی۔جمیلہ عرفانی صاحبہ انقلابی پر و گرام سوچتی بہ تعزیت کا پیغام اُن کو پہنچاتا ہوں۔اللہ اسے اور جواں عمر لڑکیاں تن من سے مصروف کار رہتیں۔غریق رحمت فرمائے اور جیسی سیرت کے بیان پر انہوں کراچی یونیورسٹی سے ایم ایس سی (باٹنی) کیا محترمہ نے اپنی زندگی صرف کی رخدا تعالیٰ اس سیرت کے فیض سیده حبيبية الرحمن قدسیہ صاحبہ اور محترم محمد سعود احمد سے ان کے بچوں کو صبر محمد کی عطا کرے۔ان کے صاحب قریشی کے بیٹے دار واحد صاحب قریشی سے خاوند ان کے والد اور دوسرے عزیزوں کو ان کی ۱۹۷۲ ءریلی شادی ہوئی۔شادی کے بعد امیران میں والدہ کو اور دوسرے عزیزوں کو سب کو خدا صبر بھی سلسلہ کی خدمت کی راہیں نکالیں۔ایران میں بہتری محمد ی عطا فرمائے اور سیرت کا یہ فیض ان کے جیسی فعال اور متحرک احمدی خانوں کو یہ تاثر دیا گیا خاندان کو خصوصیت سے پہنچے کہ یہاں احمدیت کی شدید مخالفت ہے۔اگر کسی کو معلوم یہ خوش نصیب خاتون اور جہاں بہتری وارد ہو جائے کہ کوئی احمدی ہے تو کسی بہانے گھر سے ہواتے محترمہ نور جہاں بیگ اور محترم مرزا عبدالرحیم بیگ ہیں اور پھر تا حیات خیر نہیں ملتی کہ وہ کہاں کھپا دیا ایڈووکیٹ نائب امیر جماعت احمدیہ کراچی کی دختر گیا۔اس لئے یہاں دستور زباں بندی پر کاربند رہنا نیک اختر تھیں۔اس کے دادا محترم مرزا عبد الحکیم بیگ ہے مگر بشری کے لئے یہ احتیاط آمیز بندشیں نئے معنی صاحب کلیانہ ریاست جنید کے ایک معزز گھرانے تھیں۔پہلے اُس نے احمدی گھرانوں سے روابط بڑھائے سے تعلق رکھتے تھے اور نانا حضرت حکیم عبدالصمد پھر اپنے گھر پر سیرت النبی صلی اللہ علیہ و ستم کا جلسہ کیا صاحب دہلوی رفیق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تھے شرعی جس میں غیر از جماعت جہان بھی مدعو تھے اس کے ساتھ ۲۷ جنوری ۱۹۴۶ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔پانچویں ہی باقاعدہ مجنہ قائم کی۔عہدے دار مقرر کیں۔بیٹری کے چھٹی کلاکس سے ناصرات الاحمدیہ کی سیکر ٹری کی حیثیت حسن سلوک سے دائرہ اثر میں اضافہ ہوتا رہا اور باد چونکہ سے کام شروع کیا۔والدین کی تربیت کے جو ہر کھلنے لگے۔حساس عہدوں پر فائز احباب کی بیگمات بھی شریک ہوتی والدہ حلقہ رام سوامی کی صدر تھیں۔اس طرح گھر میں تھیں کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا۔وہ لٹریچر بھی دیتیں۔تنظیمی کاموں کی تربیت ملتی رہی۔بچپن سے ہی ہر تقریریں بھی کرتی اگر کوئی خوف کا اظہار کر تا تو نے کام میں پیش پیش رہنے کا شوق تھا۔شرارتیں بھی کیں۔سے کہتی کہ نام تو میرا جاتا ہے اگر نقصان ہوگا تو مجھے تفصیل بھی کھیلے۔تعلیم میں اچھے نتائج حاصل کئے سکول آپ کیوں ڈرتی ہیں مگر اللہ پاک نے اس شیرنی جیسی کالج اور پھر یونیورسٹی کے زمانے میں مثالی اخلاقی نمونے بہادر کی ہمیشہ استعانت فرمائی اس کا جتنا شکر کی وجہ سے تعظیم حاصل کرتی رہیں۔کھل کر اپنے عقائد کیا جائے کم ہے۔بیان کرنے کا شوق بھی پایا جاتا تھا۔احمدیہ ہال گویا ایران میں ۱۹۷۹ ءر میں دگرگوں حالات پیدا ہوئے دوسرا گھر تھا۔ناصرات اور لجنہ کے کاموں میں بے حد جس کے نتیجے میں بغیر ساندہ و سامان کے واپس کو اچی