حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 2
مصباح ریون جلد 46 ۴۳ 2 ومبر ۱۹۹۳ء ماہنامہ مصباح ربوه شماره راا فتح ۱۳۷۲ش/ دسمبر ۱۹۹۳ د قبولیت عامہ حضرت ابو ہر محمدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل سے کہتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، تو کبھی اس سے محبت کی۔اس پہ جبرائیل بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔پھر جبرائیل ساکنان فلک میں اعلان کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے۔پس آسمان والے بھی اس سے محبت کر نے لگ جاتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اہل زمین میں بھی اسے قبولیت عامہ کا شرف بخشتا ہے۔اور ہر ایک اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔" رسخالدی كتاب الادب باب المقط من الله )۔کچھ عرصہ پہلے ہم سے بچھڑ جانے والی خور جہاں بشری داود بھی ان ہی میں سے ایک تھی جن سے ہر کوئی محبت کرتا ہے وہ اپنی زندگی میں شاید ان ہی حلقوں میں جانی پہچانی جاتی ہو جہاں وہ جماعتی فرائض سرانجام دیتی تھی یا ان جگہوں میں جہاں اس نے تقاریر وغیرہ کی ہوں گی۔لیکن اس کی وفات پر تو ساری دنیا کے احمدی احباب ونعواتین نے اس کی وفات کو ایسے محسوس کیا جیسے ان کا اپنا کوئی عزیز ترین دیودان سے سمجھ گیا ہو اور یہ ایک مرنے والے کے لئے بہت عظیم خراج تحسین ہے اور یقیناً بشری اپنے اوصاف کی وجہ سے اس انتزانہ کی مستحق تھی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اسے قبولیت عامہ کا شرف بخشا۔اللہ تعالیٰ اسے اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل۔اور ان کا ہر آن حافظ و ناصر ہو۔موت تو بہر صورت ہر ایک کے لئے مقدر ہے لیکن بعض پیارے وجود اپنے پیچھے ٹیم کی ہی بری یادیں چھوڑ جاتے ہیں اور بشریٰ ان ہی میں سے ایک تھی جسے بے وفا زندگی نے ہم سب سے جدا کر دیا۔ے پیار کتنا بھی ٹوٹ کر کیجئے۔زندگی نے وفا نہیں سیکھی چھوڑ جاتی ہے راستہ میں کہیں > ) ) ) ) ) ) ) )