حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 11
مصباح ریده نہیں سکتا تھا۔آپ ہمیشہ کہیں نہیں نے جمیلہ باجی دسمبر ۱۹۹۳ء ایران سے واپسی کے بعد آپ کے معاشی حالات رجمیلہ عرفانی صاحبہ اسے بہت کچھ سیکھا ہے۔ہمیشہ اچھے نہ تھے ایک روز ناصر د بشری با جی کے بڑے فرزند) اپنے استادوں کا ذکر تعظیم اور پیار سے کیا کہ میں نے آکر پوچھا ! امی وہ با ہر فٹ پاتھ پر ایک مزدور اور کرتیں۔اور جب ہم یہ کہتے کہ بشری باجی ہم آپ سے سیکھ بغیر لحاف کے سو رہا ہے اسے ہمیں اپنا کمیل دے آؤں؟۔رہے ہیں تو نہایت عاجزی کا اظہار کرتیں۔گردن جھکائی آپ نے فوراً اجازت دے دی اور یہ نہ سوچا کہ گھر جاتیں اور کہتیں۔" نہیں چندا تم میں ہی بہت صلاحیت ہیں تو پہلے ہی گرم کپڑوں کی کمی ہے۔رات دونوں بھائی ہے ورنہ مجھے تو کچھ نہیں آتا یہ مکیں تو خود سیکھ رہی ایک کمیل میں سوئے اور آپ دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی ہوں۔یہ چاند جہاں بھی گیا چمکتا ہی رہا اور اپنے ماحول ر ہیں کہ میرے بچے کے دل میں ضرورت مندوں کی مدد کو منور کرنے میں خوشی محسوس کی۔اپنی تمام صلاحیتوں کرنے کا جذبہ موجود ہے۔کو خدا تعالیٰ کی عطا جاتا اور سید القوم خادمہم آپ ہمیشہ ہمیں ایسے واقعات سنایا کہ نہیں اور کے مصداق ہر عہدہ کو خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ہمیشہ تصیحت کرتی۔دیکھو بچپن میں بچوں کے دل میں پیدا پھلدار درخت بن کمر زندگی گزاری۔ہونے والے نیک جذبات کو ضرور ابھارا کرو۔اس سے ایران سے آنے کے بعد جہاں حور جہاں باجی اور شادی کے بعد ایران گئیں تو وہاں جماعت احمدیہ بچہ اچھا انسان بن جاتا ہے ورنہ بڑے ہوتے پر ان لجنہ اماء اللہ کی بنیاد رکھی۔نا مساعد حالات اور زبان اوصاف کا پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ناشناسی کے باوجود کام کی دھن میں رہنے کی فطرت نے حلقہ احباب میں بہت جلد اضافہ کیا اور آپ کو جماعت بہت سی باتوں میں معتبر ہو گئیں وہاں آپ کے دل احمدیہ کا موقف بہترین رنگ میں قوم فارس کو سمجھاتے نے عشق رسول اللہ کی تھی چنگاری کو روشن شمع کا موقع ملا شہ سے شنک آپ نے انجان لوگوں بنا لیا تھا۔کو انجان ملک میں خدا کی پہچان کروانے کا فرض ادا کیا۔پہلے کی خورجہاں کسی تلاش میں تھی مگرینش و وایم پر ایڈ کے پر انشوب حالات میں اپنا تمام سرمایہ اور کی میتری داد کو اپنی منزل پا چکی تھی۔وہ بیچی جو کچھ گھر بار چھوڑ کر وطن واپس آئیں مگر ایک لفظ بھی شکوہ کرنا چاہتی تھی اس کی شخصیت نے ایک حقیقی تصویر کا زبان پہ نہ آیا۔ہمیشہ کہتیں " میرے مولا تیرا شکر ہے کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔پھر خدمت کا موقع مل گیا ہے تو اسے قبول کر لے " ایران سے واپسی کے بعد تمدا تعالیٰ نے آپ کو آپ کا خاص وصف انسانیت کی خدمت کرنے کا بھر پور خدمت کا موقع فراہم کیا۔حضرت امام جماعت احمدیہ جذبہ تھا ہمیشہ خدا کے حضور وہ چیز پیش کرتیں جس کی الثالث نے آپ کو پانچ رکنی کمیٹی کا ایک ممبر مقرر فرمایا سب سے زیادہ خود ضرورت مند ہوئیں یا جو بہترین چیز اور اپنے دست مبارک سے خوک جہاں بشری کو بشر کی آپ کے پاس ہوتی۔داد و تحریر فرمایا۔