حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 93

۷۷۵ مناسب حال طبعی قوت جو بچہ میں ہوتی ہے جس کی تعدیل سے یہ خلق بنتا ہے الفت یعنی خوگرفتگی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان صرف طبعی حالت میں یعنی اس حالت میں کہ جب انسان عقل سے بے بہرہ ہو صلح کے مضمون کو سمجھ نہیں سکتا اور نہ جنگ جوئی کے مضمون کو سمجھ سکتا ہے پس اُس وقت جو ایک عادت موافقت کی اس میں پائی جاتی ہے وہی صلح کاری کی عادت کی ایک جڑھ ہے لیکن چونکہ وہ عقل اور تدبر اور خاص ارادہ سے اختیار نہیں کی جاتی اس لئے خلق میں داخل نہیں بلکہ خلق میں تب داخل ہوگی کہ جب انسان بالا رادہ اپنے تئیں بے شر بنا کر صلح کاری کے خلق کو اپنے محل پر استعمال کرے اور بے محل استعمال کرنے سے مجتنب رہے۔اس میں اللہ جل شانہ یہ تعلیم فرماتا ہے۔وَاَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَالصُّبحُ خَيْرٌ وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا : ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلي حَمِيمٌ۔چوتھی قسم ترک شر کے اخلاق میں سے رفق اور قول حسن ہے اور یہ خلق جس حالت طبعی سے پیدا ہوتا ہے اُس کا نام طلاقت یعنی کشادہ روئی ہے۔بچہ جب تک کلام کرنے پر قادر نہیں ہوتا بجائے رفق اور قول حسن کے طلاقت دکھلاتا ہے۔یہی دلیل اس بات پر ہے کہ رفق کی جڑھ جہاں سے یہ شاخ پیدا ہوتی ہے طلاقت ہے۔طلاقت ایک قوت ہے اور رفق ایک خلق ہے جو اس قوت کو محل پر استعمال کرنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کی تعلیم یہ ہے۔وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاء مِنْ نِّسَاءِ عَلَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۵ اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمُ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا۔۔وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابُ رَّحِيمُ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَبِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا۔اب ترک شر کے اقسام ختم ہو چکے اور اب ہم ایصالِ خیر کے اقسام بیان کرتے ہیں۔الانفال : ٢ النساء:۱۲۹ ۳ الانفال: ۶۲ ۴ :الفرقان:۵۶۴ الفرقان :۷۳ حم السجدة: ۳۵ - البقرة : ۸۴ الحجرات : ۱۲ و الحجرات ۱۲ ۱۰ بنی اسراءیل : ۳۷