حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 92
223 داخل نہیں ہو سکتی گوانسانی سرشت میں اصل جڑھ خلق دیانت اور امانت کی وہی ہے جیسا کہ بچہ اس غیر معقول حرکت سے متدین اور امین نہیں کہلا سکتا۔ایسا ہی وہ شخص بھی اس خلق سے متصف نہیں ہوسکتا جو اس طبعی حالت کو محل پر استعمال نہیں کرتا۔امین اور دیانت دار بننا بہت نازک امر ہے جب تک انسان اس کے تمام پہلو بجا نہ لاوے۔امین اور دیانت دار نہیں ہو سکتا۔اس میں اللہ تعالیٰ نے نمونہ کے طور پر آیات مفصلہ ذیل میں امانت کا طریق سمجھایا ہے۔اور وہ طریق امانت یہ ہے۔وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللهُ لَكُمْ قِيماً وَ ارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوالَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا وَابْتَلُوا الْيَتْلَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ أَنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمُ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللهِ حَسِيبًا۔- وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعْفًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ وَلْيَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيدًا اِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَ سَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا۔ان تمام آیات میں خدا تعالیٰ نے تمام طریقے بددیانتی کے بیان فرما دیئے اور ایسا کلام کلّی کے طور پر فرمایا جس میں کسی بددیانتی کا ذکر باہر نہ رہ جائے۔صرف یہ نہیں کہا کہ تو چوری نہ کر تا ایک نادان یہ نہ سمجھ لے کہ چوری تو میرے لئے حرام ہے مگر دوسرے ناجائز طریقے سب حلال ہیں۔اس کلمہ جامع کے سامنے تمام ناجائز طریقوں کو حرام ٹھہرانا یہی حکمت بیانی ہے۔غرض اگر کوئی اس بصیرت سے دیانت اور امانت کا خلق اپنے اندر نہیں رکھتا اور ایسے تمام پہلوؤں کی رعایت نہیں کرتا وہ اگر دیانت وامانت کو بعض امور میں دکھلائے بھی تو یہ حرکت اس کی خُلق دیانت میں داخل نہیں سمجھی جائے گی بلکہ ایک طبعی حالت ہوگی جو عقلی تمیز اور بصیرت سے خالی ہے۔تیسری قسم ترک شر کی اخلاق میں سے وہ قسم ہے کہ جس کو عربی میں هــذنــه اور ھون کہتے ہیں یعنی دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر انسان ہونا اور صلح کاری کے ساتھ زندگی بسر کرنا۔پس بلا شبہ صلح کاری اعلیٰ درجہ کا ایک خلق ہے اور انسانیت کے لئے از بس ضروری اور اس خُلق کے النساء:۷،۶ النساء : ١١،١٠