حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 88
طبعی حالات اخلاقی حالات سے کچھ الگ چیز نہیں بلکہ وہی حالات ہیں جو تعدیل اور موقعہ اور محل پر استعمال کرنے سے اور عقل کی تجویز اور مشورہ سے کام میں لانے سے اخلاقی حالات کا رنگ پکڑ لیتے ہیں۔اور قبل اس کے کہ وہ عقل اور معرفت کی اصلاح اور مشورہ سے صادر ہوں گو وہ کیسے ہی اخلاق سے مشابہ ہوں۔درحقیقت اخلاق نہیں ہوتے بلکہ طبیعت کی ایک بے اختیار رفتار ہوتی ہے۔جیسا کہ اگر ایک کتے یا ایک بکری سے اپنے مالک کے ساتھ محبت اور انکسار ظاہر ہو تو اس کتے کو خلیق نہیں کہیں گے اور نہ اس بکری کا نام مہذب الاخلاق رکھیں گے۔اسی طرح ہم ایک بھیڑئیے یا شیر کو اُن کی درندگی کی وجہ سے بدخلق نہیں کہیں گے بلکہ جیسا کہ ذکر کیا گیا اخلاقی حالت محل اور سوچ اور وقت شناسی کے بعد شروع ہوتی ہے اور ایک ایسا انسان جو عقل و تدبیر سے کام نہیں لیتا وہ اُن شیر خوار بچوں کی طرح ہے جن کے دل اور دماغ پر ہنوز قوت عقلیہ کا سایہ نہیں پڑا یا ان دیوانوں کی طرح جو جوہر عقل اور دانش کو کھو بیٹھتے ہیں۔ظاہر ہے کہ جو شخص بچہ شیر خوار اور دیوانہ ہو وہ ایسی حرکات بعض اوقات ظاہر کرتا ہے کہ جو اخلاق کے ساتھ مشابہ ہوتی ہیں مگر کوئی عقلمند ان کا نام اخلاق نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ حرکتیں تمیز اور موقع بینی کے چشمہ سے نہیں نکلتیں بلکہ وہ طبعی طور پرتحریکوں کے پیش آنے کے وقت صادر ہوتی جاتی ہیں جیسا کہ انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں کی طرف رُخ کرتا ہے اور ایک مرغ کا بچہ پیدا ہوتے ہی دانہ چگنے کے لئے دوڑتا ہے۔جونک کا بچہ جونک کی عادتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور سانپ کا بچہ سانپ کی عادتیں ظاہر کرتا ہے اور شیر کا بچہ شیر کی عادتیں دکھلاتا ہے۔بالخصوص انسان کے بچہ کو غور سے دیکھنا چاہئے کہ وہ کیسے پیدا ہوتے ہی انسانی عادتیں دکھلانا شروع کر دیتا ہے اور پھر جب برس ڈیڑھ برس کا ہوا تو وہ عادات طبعیہ بہت نمایاں ہو جاتی ہیں۔مثلاً پہلے جس طور سے روتا تھا اب رونا بہ نسبت پہلے کے کسی قدر بلند ہو جاتا ہے۔ایسا ہی ہنسنا قہقہہ کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔اور آنکھوں میں بھی عمداد یکھنے کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں اور اس عمر میں یہ ایک اور امرطبعی پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنی رضا مندی یا نا رضا مندی حرکات سے ظاہر کرتا ہے اور کس کو مارتا اور کسی کو کچھ دینا چاہتا ہے مگر یہ تمام حرکات دراصل طبعی ہوتی ہیں۔پس ایسے بچہ کی مانند ایک وحشی آدمی بھی جس کو انسانی تمیز سے بہت ہی کم حصہ ملا ہے۔وہ بھی اپنے ہر ایک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں طبعی حرکات ہی دکھلاتا ہے اور اپنی طبیعت کے جذبات کا تابع رہتا ہے کوئی بات اس کے اندرونی قوی کے تدبر اور تفکر سے نہیں نکلتی بلکہ جو کچھ طبعی طور پر اس کے اندر پیدا ہوا ہے وہ خارجی تحریکوں کے مناسب حال نکلتا چلا جاتا ہے۔یہ ممکن ہے کہ اس کے طبعی جذبات جو