حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 86
۷۶۸ کسی کا رحم اس حد تک پہنچے کہ وہ شہد کھانا ترک کر دے کیونکہ وہ بہت سی جانوں کے تلف ہونے اور غریب لکھیوں کو اُن کے استھان سے پراگندہ کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔اور میں مانتا ہوں کہ کوئی مُشک سے بھی پر ہیز کرے کیونکہ وہ غریب ہرن کا خون ہے اور اس غریب کو قتل کرنے اور بچوں سے جدا کرنے کے بعد میسر آ سکتا ہے۔ایسا ہی مجھے اس سے بھی انکار نہیں کہ کوئی موتیوں کے استعمال کو بھی چھوڑ دے اور ابریشم کو پہننا بھی ترک کرے کیونکہ یہ دونوں غریب کیڑوں کے ہلاک کرنے سے ملتے ہیں۔بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ کوئی شخص دُکھ کے وقت جونکوں کے لگانے سے بھی پر ہیز کرے اور آپ دکھ اُٹھالے اور غریب جونک کی موت کا خواہاں نہ ہو۔بالآخر اگر کوئی مانے یا مانے مگر میں مانتا ہوں کہ کوئی شخص اس قدر رحم کو کمال کے نقطہ تک پہنچا دے کہ پانی پینا چھوڑ دے اور اس طرح پانی کے کیٹروں کے بچانے کے لئے اپنے تئیں ہلاک کرے۔میں یہ سب کچھ قبول کرتا ہوں لیکن میں ہرگز قبول نہیں کر سکتا کہ یہ تمام طبعی حالتیں اخلاق کہلا سکتی ہیں یا صرف انہی سے وہ اندرونی گند دھوئے جا سکتے ہیں جن کا وجود خدا کے ملنے کی روک ہے۔میں کبھی باور نہیں کروں گا کہ اس طرح کا غریب اور بے آزار بنتا جس میں بعض چار پائیوں اور پرندوں کا کچھ نمبر زیادہ ہے اعلیٰ انسانیت کے حصول کا موجب ہو سکتا ہے۔بلکہ میرے نزدیک یہ قانون قدرت سے لڑائی ہے اور رضا کے بھاری خلق کے برخلاف اور اس نعمت کو رڈ کرنا ہے جو قدرت نے ہم کو عطا کی ہے بلکہ وہ روحانیت ہر ایک خلق کو محل اور موقعہ پر استعمال کرنے کے بعد اور پھر خدا کی راہوں میں وفاداری کے ساتھ قدم مارنے سے اور اسی کا ہو جانے سے ملتی ہے۔جو اُس کا ہو جاتا ہے اُس کی یہی نشانی ہے کہ وہ اُس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔عارف ایک مچھلی ہے جو خدا کے ہاتھ سے ذبح کی گئی اور اُس کا پانی خدا کی محبت ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۲۵ تا ۳۲۷) انسانی حالتوں کے سرچشمے تین ہیں یعنی نفس امارہ، نفس لوامہ ،نفس مطمئنہ اور طریق اصلاح کے بھی تین ہیں۔اول یہ کہ بے تمیز وحشیوں کو اس ادنیٰ خلق پر قائم کیا جائے کہ وہ کھانے پینے اور شادی وغیرہ تمدنی امور میں انسانیت کے طریقے پر چلیں۔نہ ننگے پھریں اور نہ کتوں کی طرح مُردار خور ہوں اور نہ کوئی اور بے تمیزی ظاہر کریں۔یہ طبعی حالتوں کی اصلاحوں میں سے ادنی درجہ کی اصلاح ہے یہ اس قسم کی اصلاح ہے کہ اگر مثلاً پورٹ بلیر کے جنگلی آدمیوں میں سے کسی آدمی کو انسانیت کے لوازم سکھانا ہو تو پہلے