حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 85
272 کا ایک شعلہ اُٹھ کر دل پر جا پڑتا ہے۔تب دل بھی آنکھوں کی پیروی کر کے غمگین ہو جاتا ہے۔ایسا ہی جب ہم تکلف سے ہنسنا شروع کریں تو دل میں بھی ایک انبساط پیدا ہو جاتا ہے۔یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جسمانی سجدہ بھی روح میں خشوع اور عاجزی کی حالت پیدا کرتا ہے۔اس کے مقابل پر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب ہم گردن کو اونچی کھینچ کر اور چھاتی کو اُبھار کر چلیں تو یہ وضع رفتار ہم میں ایک قسم کا تکبر اور خود بینی پیدا کرتی ہے تو ان نمونوں سے پورے انکشاف کے ساتھ کھل جاتا ہے کہ بے شک جسمانی اوضاع کا روحانی حالتوں پر اثر ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۶ ۳۱ تا ۳۲۰) طبعی حالتیں جن کا سر چشمہ اور مبدء نفس امارہ ہے خدا تعالیٰ کے پاک کلام کے اشارات کے موافق اخلاقی حالتوں سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔کیونکہ خدا کے پاک کلام نے تمام نیچرل قومی اور جسمانی خواہشوں اور تقاضوں کو طبعی حالات کی مد میں رکھا ہے اور وہی طبعی حالتیں ہیں جو بالا رادہ ترتیب اور تعدیل اور موقع بینی اور محل پر استعمال کرنے کے بعد اخلاق کا رنگ پکڑ لیتی ہیں۔ایسا ہی اخلاقی حالتیں روحانی حالتوں سے کوئی الگ باتیں نہیں ہیں بلکہ وہی اخلاقی حالتیں ہیں جو پورے فنافی اللہ اور تزکیہ نفس اور پورے انقطاع الی اللہ اور پوری محبت اور پوری محویت اور پوری سکینت اور اطمینان اور پوری موافقت باللہ سے روحانیت کا رنگ پکڑ لیتی ہیں۔طبعی حالتیں جب تک اخلاقی رنگ میں نہ آئیں کسی طرح انسان کو قابلِ تعریف نہیں بنا تیں کیونکہ وہ دوسرے حیوانات بلکہ جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں۔ایسا ہی مجرد اخلاق کا حاصل کرنا بھی انسان کو روحانی زندگی نہیں بخشتا بلکہ ایک شخص خدا تعالیٰ کے وجود سے بھی منکر رہ کر اچھے اخلاق دکھلا سکتا ہے۔دل کا غریب ہونا یا دل کا حلیم ہونا یا صلح کا ر ہونا یا ترک شر کرنا اور شریر کے مقابلہ پر نہ آنا یہ تمام طبعی حالتیں ہیں اور ایسی باتیں ہیں جو ایک نااہل کو بھی حاصل ہو سکتی ہیں جو اصل سرچشمہ نجات سے بے نصیب اور نا آشنا محض ہے اور بہت سے چار پائے غریب بھی ہوتے ہیں اور پلنے اور خو پذیر ہونے سے صلح کاری بھی دکھلاتے ہیں۔سونٹے پر سونٹا مارنے سے کوئی مقابلہ نہیں کرتے مگر پھر بھی ان کو انسان نہیں کہہ سکتے چہ جائیکہ ان خصلتوں سے وہ اعلیٰ درجہ کے انسان بن سکیں۔ایسا ہی بد سے بد عقیدہ والا بلکہ بعض بدکاریوں کا مرتکب ان باتوں کا پابند ہو سکتا ہے۔ممکن ہے کہ انسان رحم میں اس حد تک پہنچ جائے کہ اگر اُس کے اپنے ہی زخم میں کیڑے پڑیں اُن کو بھی قتل کرنا روا نہ رکھے اور جانداروں کی پاسداری اس قدر کرے کہ جوئیں جو سر میں پڑتی ہیں یا وہ کیڑے جو پیٹ اور انتڑیوں میں اور دماغ میں پیدا ہوتے ہیں اُن کو بھی آزار دینا نہ چاہے بلکہ میں قبول کر سکتا ہوں کہ