حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 83
اور اخلاقی حالتوں کے دوسرے سرچشمہ کا نام قرآن شریف میں نفس لوامہ ہے۔جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے۔وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ التَّوَّامَةِ لے یعنی میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو ہدی کے کام اور ہر ایک بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔یہ فس لوامہ انسانی حالتوں کا دوسرا سر چشمہ ہے جس سے اخلاقی حالتیں پیدا ہوتی ہیں۔اور اس مرتبہ پر انسان دوسرے حیوانات کی مشابہت سے نجات پاتا ہے۔اور اس جگہ نفس لوامہ کی قسم کھانا اس کو عزت دینے کے لئے ہے۔گویا وہ نفس امارہ سے نفس لوامہ بن کر بوجہ اس ترقی کے جناب الہی میں عزت پانے کے لائق ہو گیا اور اس کا نام لوامہ اس لئے رکھا کہ وہ انسان کو بدی پر ملامت کرتا ہے اور اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ انسان اپنے طبعی لوازم میں شتر بے مہار کی طرح چلے اور چار پایوں کی زندگی بسر کرے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اس سے اچھی حالتیں اور اچھے اخلاق صادر ہوں اور انسانی زندگی کے تمام لوازم میں کوئی بے اعتدالی ظہور میں نہ آوے اور طبعی جذبات اور طبعی خواہشیں عقل کے مشورہ سے ظہور پذیر ہوں۔پس چونکہ وہ بری حرکت پر ملامت کرتا ہے اس لئے اس کا نام نفس لوامہ ہے یعنی بہت ملامت کرنے والا اور نفس لوامہ اگر چہ طبعی جذبات پسند نہیں کرتا بلکہ اپنے تئیں ملامت کرتا رہتا ہے لیکن نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور سے قادر بھی نہیں ہوسکتا اور کبھی نہ کبھی طبعی جذبات اُس پر غلبہ کر جاتے ہیں۔تب گر جاتا ہے اور ٹھوکر کھاتا ہے۔گویا وہ ایک کمزور بچہ کی طرح ہوتا ہے جو گرنا نہیں چاہتا ہے مگر کمزوری کی وجہ سے گرتا ہے۔پھر اپنی کمزوری پر نادم ہوتا ہے۔غرض یہ نفس کی وہ اخلاقی حالت ہے جب نفس اخلاق فاضلہ کو اپنے اندر جمع کرتا ہے اور سرکشی سے بے زار ہوتا ہے مگر پورے طور پر غالب نہیں آ سکتا۔پھر ایک تیسرا سر چشمہ ہے جس کو روحانی حالتوں کا مبداء کہنا چاہئے اس سر چشمہ کا نام قرآن شریف نے نفسِ مطمئنہ رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔یايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِى وَادْخُلِي جَنَّتِی ہے یعنی اے نفس آرام یافته جو خدا سے آرام پا گیا۔اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر آ جا۔یہ وہ مرتبہ ہے جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجات پا کر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے ایسا پیوند کر لیتا ہے کہ بغیر اس کے جی بھی نہیں سکتا اور جس طرح پانی اوپر سے نیچے کی طرف بہتا اور القيمة : الفجر : ۲۸ تا ۳۱