حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 82
۷۶۴ انسان کی طبعی اخلاقی اور روحانی حالتیں یہ قرآن نے ہی دنیا پر احسان کیا کہ طبعی حالتوں اور اخلاق فاضلہ میں فرق کر کے دکھلایا اور جب طبعی حالتوں سے نکال کر اخلاق فاضلہ کے محل عالی تک پہنچایا۔تو فقط اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اور مرحلہ جو باقی تھا یعنی روحانی حالتوں کا مقام اس تک پہنچنے کے لئے پاک معرفت کے دروازے کھول دیئے اور نہ صرف کھول دیئے بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس تک پہنچا بھی دیا۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده صفحه ۳۶۷، ۳۶۸) واضح ہو کہ پہلا سوال انسان کی طبعی اور اخلاقی اور روحانی حالتوں کے بارے میں ہے۔سو جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ کے پاک کلام قرآن شریف نے اِن تین حالتوں کی اس طرح پر تقسیم کی ہے کہ ان تینوں کے علیحدہ علیحدہ تین مبداء ٹھہرائے ہیں یا یوں کہو کہ تین سرچشمے قرار دیئے ہیں جن میں سے جدا جدا یہ حالتیں نکلتی ہیں۔پہلا سر چشمہ جو تمام طبعی حالتوں کا مورد اور مصدر ہے اُس کا نام قرآن شریف نے نفس امارہ رکھا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوء لے یعنی نفس امارہ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو بدی کی طرف جو اُس کے کمال کے مخالف اور اس کی اخلاقی حالتوں کے برعکس ہے جھکاتا ہے اور نا پسندیدہ اور بد راہوں پر چلانا چاہتا ہے۔غرض بے اعتدالیوں اور بدیوں کی طرف جانا انسان کی ایک حالت ہے جو اخلاقی حالت سے پہلے اُس پر طبعاً غالب ہوتی ہے اور یہ حالت اس وقت تک طبعی حالت کہلاتی ہے جب تک کہ انسان عقل اور معرفت کے زیر سایہ نہیں چلتا بلکہ چار پایوں کی طرح کھانے پینے سونے جاگنے یا غصہ اور جوش دکھلانے وغیرہ امور میں طبعی جذبات کا پیرو رہتا ہے اور جب انسان عقل اور معرفت کے مشورہ سے طبعی حالتوں میں تصرف کرتا اور اعتدال مطلوب کی رعایت رکھتا ہے اُس وقت ان تینوں حالتوں کا نام طبعی حالتیں نہیں رہتا بلکہ اُس وقت یہ حالتیں اخلاقی حالتیں کہلاتی ہیں جیسا کہ آگے بھی کچھ ذکر اِس کا آئے گا۔یوسف:۵۴