حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 81

کرے اور ارواح کو اجسام کے ساتھ تعلق دے کر اس مسافر خانہ کو جو دنیا کے نام سے موسوم ہے اپنی عجائب قدرتوں کی جگہ بناوے۔آخر اس میں کوئی قوت اقتضائی تھی جو اس بنا ڈالنے کی محرک ہوئی۔اسی کی طرف اُس کے پاک کلام میں جو قرآن شریف ہے اشارات پائے جاتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے کل عالم کو اس غرض سے پیدا کیا کہ تا وہ اپنی خالقیت کی صفت سے شناخت کیا جائے اور پھر پیدا کرنے کے بعد اپنی مخلوقات پر رحم اور کرم کی بارشیں کیں تا وہ رحیمی اور کریمی کی صفت سے شناخت کیا جائے۔ایسا ہی اس نے سزا اور جزا دی تا اس کا منتقم اور منعم ہونا شناخت کیا جائے۔اسی طرح وہ مرنے کے بعد پھر اٹھائے گا تا اُس کا قادر ہونا شناخت کیا جائے۔غرض وہ اپنے سب عجیب کاموں سے یہی مدعا رکھتا ہے کہ تا وہ پہچانا جائے اور شناخت کیا جائے۔سو جبکہ دنیا کے پیدا کرنے اور جزا سزا وغیرہ سے اصل غرض معرفت الہی ہے جو لب لباب پرستش و عبادت ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ خود تقاضا فرماتا ہے کہ تا اُس کی معرفت جس کی حقیقت کاملہ پرستش و عبادت کے ذریعہ سے کھلتی ہے اُس کے بندوں سے حاصل ہو جائے۔جیسا کہ ایک خوبصورت اپنے کمال خوبصورتی کی وجہ سے اپنے حسن کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔سو خدائے تعالیٰ جس پر حسن حقیقی کے کمالات ختم ہیں وہ بھی اپنے ذاتی جوش سے چاہتا ہے کہ وہ کمالات لوگوں پر کھل جائیں۔پس اس تحقیق سے ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنی عبادت جو مدار و ذریعہ شناخت ہے ضرور اپنے بندوں سے چاہتا ہے اور جو شخص اُس کی اس خواہش کا مقابلہ کرے اور اس کی پرستش سے منکر اور منحرف ہو تو ایسے شخص کو نابود کرنے کے لئے اُس کی کبریائی متوجہ ہوتی ہے۔اگر تم صفحہ دنیا پر غور کر کے دیکھو اور جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اب تک سرکشوں اور بے ایمانوں سے کیا ہے اور جو کچھ وہ قدیم سے جفا کاروں اور ستم کاروں سے کرتا چلا آیا ہے اس پر عمیق نگاہ سے نظر ڈالو تو تم پر نہایت صفائی سے کھل جائے گا کہ بلاشبہ یہ ثابت شدہ صداقت ہے کہ بالضرور خدائے تعالیٰ اپنے ذاتی تقاضا سے نیکی سے دوستی اور بدی سے نفرت اور عداوت رکھتا ہے اور یہی چاہتا ہے کہ لوگ بدی کو چھوڑ دیں اور نیکی کو اختیار کریں۔گو نیکی اور بدی کو جو انسان سے ظہور میں آتی ہے اس کے کارخانہ سلطنت میں کوئی مفید یا مضر دخل نہیں ہے لیکن ذاتی تقاضا اس کا یہی ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ نے روحوں کو پیدا نہیں کیا تو وہ کسی روح سے اس مطالبہ کرنے کا مستحق نہیں ہے کہ وہ کمال درجہ کی پرستش جو اپنے پیدا کنندہ کے لئے چاہئے کیوں اُس سے صادر نہیں ہوئی۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۶۳ تا ۲۶۸)