حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 80

کوئی شخص ایسا کہے بھی بلکہ اگر سب دنیا اور تمام آدم زاد متفق ہو کر اُس کی خدمت میں یہ گذارش کریں کہ ہم کو آپ اپنی نصیحتوں اور حکموں اور الہامی کتابوں سے معاف رکھیں ہم آپ کا بہشت یا یوں کہو کہ مکتی خانہ لینا نہیں چاہتے ہم اسی دنیا میں گزارہ کر لیں گے آپ مہربانی فرما کر اسی جگہ ہمیشہ کے لئے ہمیں رہنے دیں آخرت کی ہم بڑی بڑی نعمتوں سے باز آئے آپ ہمارے اعمال میں ذرا دخل دیا نہ کریں اور جزا وسزا وغیرہ تجویزیں جو ہمارے واسطے آپ کرتے رہتے ہیں ان سب سے آپ دست بردار رہیں ہمارے نفع یا نقصان سے آپ کچھ تعلق نہ رکھیں تو یہ عرض اُن کی ہرگز قبول نہیں ہو سکتی اگر چہ اس کے قبول کرانے کے لئے تمام عمر روتے پیٹتے رہیں۔پس اس سے صاف ثابت ہے کہ صرف یہی بات نہیں کہ بندہ اپنی حالت میں آزاد ہے اور اپنے لئے بندگی کرتا ہے اور پر میشر کو اس سے کچھ تعلق نہیں بلکہ جلال اور عظمت الہی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بندہ شرط بندگی بجا لاوے اور نیک راہوں کو اختیار کرے اور اس کی الوہیت بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ اس کے آگے عبودیت کے آثار ظاہر ہوں اور اس کی کاملیت ذاتی جوش سے یہ چاہتی ہے کہ جو نقصان سے خالی نہیں ہے اس کے آگے تذلیل کرے۔یہی وجہ ہے کہ نافرمانوں اور سرکشوں اور ان سب کو جو شرارتوں پر ضد کرتے ہیں انجام کار اس کا عذاب پکڑتا ہے۔ورنہ اس بات پر کوئی وجہ قابل اطمینان پیدا نہیں ہوتی کہ بغیر پائے جانے کسی ذاتی قوت کے جو سزا جزا دینے کے لئے اس کی ذات بابرکات ازل سے رکھتی ہو کیوں خواہ نخواہ وہ اس فکر میں لگا رہتا ہے کہ نیکی کرنے والوں کو نیک پاداش اور بدی کرنے والوں کو بد پاداش پہنچا دے بلکہ اگر کوئی قوت ذاتی جو جزا سزا دینے کے لئے محرک ہو اس میں نہ پائی جائے تو یہ چاہئے تھا کہ خاموشی اختیار رکھتا اور جزا سزا کی چھیڑ چھاڑ سے بکلی دستکش رہتا۔سواگر چہ یہ بات تو صحیح ہے کہ انسان کے اعمال کا نفع نقصان اسی کی طرف عائد ہوتا ہے۔خدائے تعالیٰ کی عظمت وسلطنت نہ اس سے کچھ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے مگر یہ بات بھی نہایت صحیح و محکم صداقت ہے کہ ربوبیت کا تقاضا بندوں کو ان کی حیثیت بندگی پر قائم رکھنا چاہتا ہے اور جو شخص ذرا تکبر سے سر اونچا کرے تو اُس کا سر فی الفور کچلا جاتا ہے۔غرض خدائے تعالیٰ کی ذات میں اپنی عظمت اپنی خدائی اپنی کبریائی اپنا جلال اپنی بادشاہی ظاہر کرنے کا ایک تقاضا پایا جاتا ہے اور سزا و جزا اور مطالبہ اطاعت و عبودیت و پرستش اسی تقاضا کی فرع پڑا ہوا ہے۔اسی اظہار ربوبیت اور خدائی کی غرض سے یہ انواع اقسام کا عالم اُس نے پیدا کر رکھا ہے ورنہ اگر اُس کی ذات میں یہ جوش اظہار نہ پایا جاتا تو پھر وہ کیوں پیدا کرنے کی طرف ناحق متوجہ ہوتا۔اور کس نے اُس کے سر پر بوجھ ڈالا تھا کہ ضرور یہ عالم پیدا