حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 71

۷۵۳ غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةُ۔أُولَيْكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ے اس دوسرے درجہ میں بھی لوگ مساوی نہیں ہوتے بلکہ اعلیٰ درجہ کے بھی ہوتے ہیں جو بہشتی ہونے کی حالت میں بہشتی انوار اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔انہیں کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے۔نُوْرُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمُ وَبِأَيْمَانِھم کے ایسا ہی دوزخی ہونے کی حالت میں اعلیٰ درجہ کے کفار ہوتے ہیں کہ قبل اس کے جو کامل طور پر دوزخ میں پڑیں اُن کے دلوں پر دوزخ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔جیسا کہ اللہ جل شانهٔ فرماتا ہے۔نَارُ اللهِ الْمَوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ پھر اس درجہ کے اوپر جو آخری درجہ ہے تیسرا درجہ ہے جو منتہائے مدارج ہے۔جس میں یوم الحساب کے بعد لوگ داخل ہوں گے۔اور اکمل اور اتم طور پر سعادت یا شقاوت کا مزہ چکھ لیں گے۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ ان تینوں مدارج میں انسان ایک قسم کی بہشت یا ایک قسم کی دوزخ میں ہوتا ہے۔اور جبکہ یہ حال ہے تو اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ ان مدارج میں سے کسی درجہ پر ہونے کی حالت میں انسان بہشت یا دوزخ میں سے نکالا نہیں جاتا۔ہاں جب اس درجہ سے ترقی کرتا ہے تو ادنی درجہ سے اعلیٰ درجہ میں آجاتا ہے۔اس ترقی کی ایک یہ بھی صورت ہے کہ جب مثلاً ایک شخص ایمان اور عمل کی ادنیٰ حالت میں فوت ہوتا ہے تو تھوڑی سی سوراخ بہشت کی طرف اس کے لئے نکالی جاتی ہے کیونکہ بہشتی تجلی کی اسی قدر اس میں استعداد موجود ہوتی ہے۔پھر بعد اس کے اگر وہ اولا د صالح چھوڑ کر مرا ہے جو جد و جہد سے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور صدقات و خیرات اس کی مغفرت کی نیت سے مساکین کو دیتے ہیں یا ایسے کسی اہل اللہ سے اس کی محبت تھی جو تضرعات سے جناب الہی سے اس کی بخشش چاہتا ہے یا کوئی ایسا خلق اللہ کے فائدہ کا وہ کام دنیا میں کر گیا ہے جس سے بندگانِ خدا کو کسی قسم کی مدد یا آرام پہنچتا ہے تو اس خیر جاری کی برکت سے وہ کھڑ کی اس کی جو بہشت کی طرف کھولی گئی دن بدن اپنی کشادگی میں زیادہ ہوتی جاتی ہے اور سَبَقَتْ رَحْمَتِی عَلى غَضَبِی کا منشاء اور بھی اس کو زیادہ کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ کھڑ کی ایک بڑا وسیع دروازہ ہو کر آخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ شہیدوں اور صدیقوں کی طرح وہ بہشت میں ہی داخل ہو جاتا ہے۔۔۔یا درکھنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے اس کھڑکی کے کھولنے کے لئے پہلے سے اس قدر سامان کر رکھے ا عبس: ۳۹ تا ۴۳ التحريم: ٣ الهمزة: ۸،۷