حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 67
۷۴۹ جیسا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ تسبیح اور تقدیس الہی کی باتیں پھل دار درختوں کی طرح متمثل ہوں گی اور نیک اعمال پاک اور صاف نہروں کی طرح دکھلائی دیں گے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۰ ۱۵ تا ۱۵۷) قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس طور سے بیان نہیں کیا جو وید بیان کرتا ہے بلکہ وہ غضب ایک روحانی فلسفہ اپنے اندر رکھتا ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ سزا دہی کی کیفیت کے بارہ میں ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ ا یعنی دوزخ کیا چیز ہے؟ دوزخ وہ آگ ہے جو دلوں پر بھڑکائی جاتی ہے۔یعنی انسان جب فاسد خیال اپنے دل میں پیدا کرتا ہے اور وہ ایسا خیال ہوتا ہے کہ جس کمال کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ اس کے مخالف ہوتا ہے تو جیسا کہ ایک بھوکا یا پیاسا بوجہ نہ ملنے غذا اور پانی کے آخر مر جاتا ہے ایسا ہی وہ شخص بھی جو فساد میں مشغول رہا اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت کی غذا اور پانی کو نہ پایا وہ بھی مر جاتا ہے۔پس بموجب تعلیم قرآن شریف کے بندہ ہلاکت کا سامان اپنے لئے آپ تیار کرتا ہے خدا اس پر کوئی جبر نہیں کرتا۔اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی اپنے حجرہ کے تمام دروازے بند کر دے اور روشنی داخل ہونے کے لئے کوئی کھڑ کی کھلی نہ رکھے تو اس میں شک نہیں کہ اس حجرے کے اندر اندھیرا ہو جائے گا۔سوکھڑکیوں کا بند کرنا تو اُس شخص کا فعل ہے مگر اندھیرا کر دینا یہ خدا تعالیٰ کا فعل اس کے قانون قدرت کے موافق ہے۔پس اسی طرح جب کوئی شخص خرابی اور گناہ کا کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے قانون قدرت کی رُو سے اس کے اس فعل کے بعد کوئی اپنا فعل ظاہر کر دیتا ہے جو اس کی سزا ہو جاتا ہے لیکن بایں ہمہ تو بہ کا دروازہ بند نہیں کرتا۔مثلاً جب ایک شخص نے اپنے ایسے حجرہ کی کھڑکی کھول دی جس کو اس نے بند کر دیا تھا تو معا خدا تعالیٰ اس گھر میں روشنی داخل کرے گا۔پس قرآن شریف کی رو سے خدا کے غضب کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ انسان کی طرح اپنی حالت میں ایک مکروہ تغیر پیدا کر کے خشمناک ہو جاتا ہے کیونکہ انسان تو غضب کے وقت میں ایک رنج میں پڑ جاتا ہے اور اپنی حالت میں ایک دُکھ محسوس کرتا ہے اور اس کا سرور جاتا رہتا ہے مگر خدا ہمیشہ سرور میں ہے اس کی ذات پر کوئی رنج نہیں ہوتا بلکہ اس کے غضب کے یہ معنی ہیں کہ وہ چونکہ پاک اور قدوس ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے بندے ہو کر ناپاکی کی راہیں اختیار کریں اور تقاضا فرماتا ہے کہ ناپا کی کو درمیان سے اٹھا دیا جاوے۔پس جو شخص ناپا کی پر اصرار کرتا ہے آخر کار وہ خدائے قدوس اپنے فیض کو جو مدار حیات اور راحت اور آرام ہے اُس سے منقطع کر لیتا ہے اور یہی حالت اس الهمزة: ۸،۷