حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 66
۷۴۸ اللهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرا۔یعنی جو لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اُن کا خدا اُن کو ایک ایسی پاک شراب پلائے گا جو ان کو کامل طور پر پاک کر دے گی۔نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہے۔یعنی ان کے دل وہ شراب پی کر غیر کی محبت سے بکلی ٹھنڈے ہو جاویں گے۔وہ کافوری شراب ایک چشمہ ہے جس کو اسی دنیا میں خدا کے بندے پینا شروع کرتے ہیں وہ اس چشمہ کو ایسا رواں کر دیتے ہیں کہ نہایت آسانی سے بہنے لگتا ہے اور وسیع اور فراخ نہریں ہو جاتی ہیں یعنی ریاضات عشقیہ سے سب روکیں اُن کی دور ہو جاتی ہیں اور نشیب و فراز بشریت کا صاف اور ہموار ہو جاتا ہے اور جناب الہی کی طرف انقطاع کلی میسر آ کر معارف الہیہ میں وسعت تامہ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے۔وَكَأْسِ مِنْ مَّعِينٍ لَا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُونَ لَا يَسْمَعُوْنَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا۔إِلَّا قِيلًا سَلْمًا سَلَمَّا وُجُوهٌ يَوْمَذٍ نَاضِرَةٌ۔إلى رَبَّهَا نَاظِرَةٌ وَمَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سبیلا اور شراب صافی کے پیالے جو آب زلال کی طرح مصفی ہوں گے بہشتیوں کو دیئے جائیں گے۔وہ شراب ان سب عیبوں سے پاک ہوگی کہ دردسر پیدا کرے یا بے ہوشی اور بدمستی اس سے طاری ہو۔بہشت میں کوئی لغو اور بے ہودہ بات سننے میں نہیں آئے گی اور نہ کوئی گناہ کی بات سنی جائے گی بلکہ ہر طرف سلام سلام جو رحمت اور محبت اور خوشی کی نشانی ہے سننے میں آئے گا۔اس دن مومنوں کے منہ تر و تازہ اور خوبصورت ہوں گے اور وہ اپنے رب کو دیکھیں گے۔اور جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بھی گیا گذرا۔اب ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ وہ بہشتی شراب دنیا کی شرابوں سے کچھ مناسبت اور مشابہت نہیں رکھتی بلکہ وہ اپنی تمام صفات میں ان شرابوں سے مبائن اور مخالف ہے اور کسی جگہ قرآن شریف میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ وہ دنیوی شرابوں کی طرح انگور سے یا قند سیاہ اور کیکر کے چھلکوں سے یا ایسا ہی کسی اور دنیوی مادہ سے بنائی جائے گی بلکہ بار بار کلام الہی میں یہی بیان ہوا ہے کہ اصل تخم اس شراب کا محبت اور معرفت الہی ہے جس کو دنیا سے ہی بندہ مومن ساتھ لے جاتا ہے اور یہ بات کہ وہ روحانی امر کیونکر شراب کے طور پر نظر آ جائے گا۔یہ خدائے تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے جو عارفوں پر مکاشفات کے ذریعہ سے کھلتا ہے اور عظمند لوگ دوسری علامات و آثار سے اس کی حقیقت تک پہنچتے ہیں۔روحانی امور کا جسمانی طور پر متمثل ہو جانا کئی مقامات قرآن شریف میں بیان کیا گیا ہے۔الدهر : ۶، الواقعة : ۲۰۱۹ ۳ الواقعة: ۲۶، ۲۷ ، القيامة : ۲۳ ۲۴ ۵ بنی اسرآئیل :۷۳