حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 63

۷۴۵ جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی عضو مثلاً ہاتھ یا پیر اپنے محل سے اتر جائے تو اسی وقت درد شروع ہو جاتا ہے اور وہ عضو اپنی خدمات مفوضہ کو بجا نہیں لا سکتا۔اور اگر اسی حالت پر چھوڑا جائے تو رفتہ رفتہ بے کاریا متعفن ہو کر گر جاتا ہے اور بسا اوقات اُس کی ہمسائیگی سے دوسرے اعضاء کے بگڑنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔اور یہ درد جو اس عضو میں پیدا ہوتا ہے یہ باہر سے نہیں آتا بلکہ فطرتا اس کی اس خراب حالت کو لازم پڑا ہوا ہے۔ایسا ہی عذاب کی حالت ہے کہ جب فطرتی دین سے انسان الگ ہو جائے اور حالت استقامت سے گر جائے تو عذاب شروع ہو جاتا ہے گو ایک جاہل جو غفلت کی بے ہوشی میں پڑا ہوا ہے اس عذاب کا احساس نہ کرے اور ایسی حالت میں ایسا بگڑا ہوا نفس روحانی خدمات کے لائق نہیں رہتا۔اور اگر اسی حالت میں ایک مدت تک رہے تو بالکل بے کار ہو جاتا ہے اور اس کی ہمسائیگی دوسروں کو بھی معرض خطر میں ڈالتی ہے اور وہ عذاب جو اس پر وارد ہوتا ہے باہر سے نہیں آتا بلکہ وہی حالت اُس کی اس عذاب کو پیدا کرتی ہے۔بے شک عذاب خدا کا فعل ہے مگر اس طرح کا مثلاً جبکہ ایک انسان سم الفار کو وزن کافی تک کھا لے تو خدا تعالیٰ اس کو مار دیتا ہے۔یا مثلاً جب ایک انسان اپنی کوٹھڑی کے تمام دروازے بند کر دے تو خدا تعالیٰ اس گھر میں اندھیرا پیدا کر دیتا ہے یا اگر مثلاً ایک انسان اپنی زبان کو کاٹ ڈالے تو خدا تعالی قوت گویائی اس سے چھین لیتا ہے۔یہ سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں جو انسان کے فعل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ایسا ہی عذاب دینا خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو انسان کے اپنے ہی فعل سے پیدا ہوتا ہے اور اسی میں جوش مارتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے۔نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ ا یعنی خدا کا عذاب ایک عذاب ہے جس کو خدا بھڑ کاتا ہے اور پہلا شعلہ اس کا انسان کے اپنے دل پر سے ہی اٹھتا ہے یعنی جڑ اُس کی انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اس جہنم کے ہیزم ہیں۔پس جبکہ عذاب کا اصل تختم اپنے وجود کی ہی ناپاکی ہے جو عذاب کی صورت پر متمثل ہوتی ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ چیز جو اس عذاب کو دور کرتی ہے وہ راستبازی اور پاکیزگی ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۲٬۸۱) انسان کی عملی اور اعتقادی غلطیاں ہی عذاب کی جڑھ ہیں۔وہی درحقیقت خدا تعالیٰ کے غضب سے آگ کی صورت پر متمثل ہوں گی اور جس طرح پتھر پر سخت ضرب لگانے سے آگ نکلتی ہے۔اسی طرح غضب الہی کی ضرب انہیں بد اعتقادیوں اور بدعملیوں سے آگ کے شعلے نکالے گی اور وہی آگ بدا اعتقادوں الهمزة: ۸،۷