حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 631
۱۳۱۳ اخِرًا وَّ ظَاهِرًا وَّ بَاطِئًا هُوَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَهُوَ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کرے گا اور وہ مجھے ہرگز ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔اگر تمام دنیا میری مخالفت میں درندوں سے بدتر ہو جائے تب بھی وہ میری حمایت کرے گا۔میں نامرادی کے ساتھ ہرگز قبر میں نہیں اتروں گا کیونکہ میرا خدا میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں میرے اندرون کا جو اس کو علم ہے کسی کو بھی علم نہیں۔اگر سب لوگ مجھے چھوڑ دیں تو خدا ایک اور قوم پیدا کرے گا جو میرے رفیق ہوں گے۔نادان مخالف خیال کرتا ہے کہ میرے مکروں اور منصوبوں سے یہ بات بگڑ جائے گی اور سلسلہ درہم برہم ہو جائے گا۔مگر یہ نادان نہیں جانتا کہ جو آسمان پر قرار پا چکا ہے۔زمین کی طاقت میں نہیں کہ اس کو محو کر سکے۔میرے خدا کے آگے زمین و آسمان کا نپتے ہیں۔خدا وہی ہے جو میرے پر اپنی پاک وحی نازل کرتا ہے اور غیب کے اسرار سے مجھے اطلاع دیتا ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں اور ضروری ہے کہ وہ اس سلسلہ کو چلا دے اور بڑھا دے اور ترقی دے جب تک وہ پاک اور پلید میں فرق کر کے دکھلاوے۔ہر ایک مخالف کو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو اس سلسلہ کے نابود کرنے کے لئے کوشش کرے اور ناخنوں تک زور لگا وے اور پھر دیکھے کہ انجام کار وہ غالب ہوا یا خدا۔پہلے اس سے ابو جہل اور ابولہب اور ان کے رفیقوں نے حق کے نابود کرنے کے لئے کیا کیا زور لگائے تھے مگر اب وہ کہاں ہیں؟ وہ فرعون جو موسیٰ کو ہلاک کرنا چاہتا تھا اب اس کا کچھ پتہ ہے؟ پس یقیناً سمجھو کہ صادق ضائع نہیں ہوسکتا۔وہ فرشتوں کی فوج کے اندر پھرتا ہے۔بدقسمت وہ جو اس کو شناخت نہ کرے۔( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۹۵،۲۹۴) اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر اُن کو غلبہ بخشے گا وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہے کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد ر کھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم