حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 625
۱۳۰۷ موسم اور وقت ہے۔پس جب ان الہامات کے ظہور کا وقت آئے گا اس وقت یہ تحریر مستعد دلوں کے لئے زیادہ تر ایمان اور تسلی اور یقین کا موجب ہو گی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعِ الْهُدَى۔(انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۵۲ تا۵۴) ہمیشہ یہ امر واقع ہوتا ہے کہ جو خدا کے خاص حبیب اور وفا دار بندے ہیں ان کا صدق خدا کے ساتھ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ دنیا دار اندھے اس کو دیکھ نہیں سکتے۔اس لئے ہر ایک سجادہ نشینوں اور مولویوں میں سے ان کے مقابلہ کے لئے اٹھتا ہے اور وہ مقابلہ اُس سے نہیں بلکہ خدا سے ہوتا ہے۔بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ جس شخص کو خدا نے ایک عظیم الشان غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور جس کے ذریعہ سے خدا چاہتا ہے کہ ایک بڑی تبدیلی دنیا میں ظاہر کرے ایسے شخص کو چند جاہل اور بُو دل اور خام اور نا تمام اور بے وفا زاہدوں کی خاطر سے ہلاک کر دے۔اگر دو کشتیوں کا باہم ٹکراؤ ہو جائے جن میں سے ایک ایسی ہے کہ اس میں بادشاہ وقت جو عادل اور کریم الطبع اور فیاض اور سعید النفس ہے مع اپنے خاص ارکان کے سوار ہے۔اور دوسری کشتی ایسی ہے جس میں چند چوہڑے یا چهار یا سائنسی بد معاش بد وضع بیٹھے ہیں اور ایسا موقع آپڑا ہے کہ ایک کشتی کا بچاؤ اس میں ہے کہ دوسری کشتی معہ اس کے سواروں کے تباہ کی جائے تو اب بتلاؤ کہ اس وقت کون سی کا رروائی بہتر ہوگی۔کیا اس بادشاہ عادل کی کشتی تباہ کی جائے گی یا ان بد معاشوں کی کشتی کہ جو حقیر و ذلیل ہیں تباہ کر دی جائے گی ؟ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بادشاہ کی کشتی بڑے زور اور حمایت سے بچائی جائے گی اور ان چوہڑوں چماروں کی کشتی تباہ کر دی جائے گی اور وہ بالکل لا پرواہی سے ہلاک کر دئیے جائیں گے۔اور ان کے ہلاک ہونے میں خوشی ہوگی۔کیونکہ دنیا کو بادشاہ عادل کے وجود کی بہت ضرورت ہے اور اس کا مرنا ایک عالم کا مرنا ہے۔اگر چند چوہڑے اور چمار مر گئے تو ان کی موت سے کوئی خلل دنیا کے انتظام میں نہیں آ سکتا۔پس خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ جب اس کے مرسلوں کے مقابل پر ایک اور فریق کھڑا ہو جاتا ہے تو گو وہ اپنے خیال میں کیسے ہی اپنے تئیں نیک قرار دیں اُنہیں کو خدا تعالی تباہ کرتا ہے اور انہیں کی ہلاکت کا وقت آ جاتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جس غرض کے لئے اپنے کسی مرسل کو مبعوث فرماتا ہے اس کو ضائع کرے۔کیونکہ اگر ایسا کرے تو پھر وہ خود اپنی غرض کا دشمن ہو گا اور پھر زمین پر اس کی کون عبادت کرے گا۔دنیا کثرت کو دیکھتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ یہ فریق بہت بڑا ہے سو یہ اچھا ہے اور نادان خیال کرتا ہے کہ یہ لوگ ہزاروں