حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 612 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 612

۱۲۹۴ میری تمنا تھی۔میں اس درد کو ساتھ لے جاؤں گا کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہئے تھا میں کر نہیں سکا۔لیکن اس خدائے کریم نے میرے لئے اور میری تصدیق کے لئے وہ عجائب کام اپنی قدرت کے دکھلائے جو اپنے خاص برگزیدوں کے لئے دکھلاتا ہے۔اور میں خوب جانتا ہوں کہ میں اس عزت اور اکرام کے لائق نہ تھا جو میرے خداوند نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔جب مجھے اپنے نقصانِ حالت کی طرف خیال آتا ہے تو مجھے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ میں کیڑا ہوں نہ آدمی اور مردہ ہوں نہ زندہ مگر اس کی کیا عجیب قدرت ہے کہ میرے جیسا نیچ اور نا چیز اس کو پسند آ گیا اور پسندیدہ لوگ تو اپنے اعمال سے کسی درجہ تک پہنچتے ہیں مگر میں تو کچھ بھی نہیں تھا۔یہ کیا شان رحمت ہے کہ میرے جیسے کو اُس نے قبول کیا۔میں اس رحمت کا شکر ادا نہیں کرسکتا۔تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۹۲ ۴۹۳) خدا تعالیٰ اپنی تائیدات اور اپنے نشانوں کو ابھی ختم نہیں کر چکا اور اسی کی ذات کی مجھے قسم ہے کہ وہ بس نہیں کرے گا جب تک میری سچائی دنیا پر ظاہر نہ کر دے۔پس اے تمام لوگو! جو میری آواز سنتے ہو خدا کا خوف کرو اور حد سے مت بڑھو۔اگر یہ منصوبہ انسان کا ہوتا تو خدا مجھے ہلاک کر دیتا اور اس تمام کاروبار کا نام ونشان نہ رہتا مگر تم نے دیکھا کہ کیسی خدا تعالیٰ کی نصرت میرے شامل حال ہو رہی ہے اور اس قدرنشان نازل ہوئے جو شمار سے خارج ہیں۔دیکھو کس قدر دشمن ہیں جو میرے ساتھ مباہلہ کر کے ہلاک ہو گئے۔اے بندگان خدا! کچھ تو سوچو کیا خدا تعالیٰ جھوٹوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے؟ تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۵۴)