حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 600
۱۲۸۲ میں درد ناک جلن تھی اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر تا اس حالت سے نجات ہومگر جب وہ عمل شروع کیا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری بکلی مجھے چھوڑ گئی اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا۔جب صبح ہوئی تو مجھے یہ الہام ہوا۔وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِشِفَاءٍ مِّنْ مِثْلِهِ یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو شفاء دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفاء پیش کرو۔یہ واقعہ ہے جس کی پچاس آدمی سے زیادہ لوگوں کو خبر ہے۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ اصفحه ۲۰۹،۲۰۸) ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی ایکدم قرار نہ تھا۔کسی شخص سے میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج بھی ہے اُس نے کہا کہ علاج دندان اخراج دندان اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا۔تب اس وقت مجھے غنودگی آگئی اور میں زمین پر بے تابی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چار پائی پاس بچھی تھی۔میں نے بے تابی کی حالت میں اس چار پائی کی پائینتی پر اپنا سر رکھ دیا اور تھوڑی سی نیند آ گئی۔جب میں بیدار ہوا تو درد کا نام ونشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا۔اِذَا مَرِضْتَ فَهُوَ يَشْفِی۔یعنی جب تو بیمار ہوتا ہے تو وہ تجھے شفا دیتا ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۶ ۲۴۷) ۲۷ جنوری ۱۹۰۵ء کو حضرت اقدس کے دائیں رخسارہ مبارک پر اماس سا نمودار ہوا جس سے تکلیف محسوس ہوئی۔حضور نے دعا فرمائی تو ذیل کے فقرات الہام ہوئے۔دم کرنے سے فورا صحت ہو گئی۔بِسمِ اللهِ الْكَافِى۔بِسْمِ اللهِ الشَّافِى۔بِسْمِ اللهِ الغَفُورِ الرَّحِيمِ۔بِسْمِ اللهِ الْبَرِّ الْكَرِيمِ۔يَا حَفِيظُ يَا عَزِيزُ يَا رَفِيُقُ يَا وَلِيُّ اشْفِنِي - الحکم جلد ۹ نمبر ۴ مورخه ۳۱ / جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۸۔تذکره صفحه ۴۴۲ مطبوعه ۲۰۰۴ء) میں نے بعض بیماریوں میں آزمایا ہے اور دیکھا ہے کہ محض دعا سے اس کا فضل ہوا اور مرض جاتا رہا