حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 599
۱۲۸۱ میتر آ گیا۔ہاں دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور یہ دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں۔جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔میں نے ان کے لئے دعائیں بھی کیں مگر منع میں جواب پایا۔اور میرے دل میں القاء کیا گیا کہ ابتداء سے مسیح موعود کے لئے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دوفرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُترے گا۔سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادر میں دو بیماریاں ہیں مشتمل ہیں۔اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں۔اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا۔جو دو حصّہ بدن پر (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۱۹-۳۲۰) ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا۔یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ سورہ یاسین سُنائی۔جب تیسری مرتبہ سورہ یسین سُنائی گئی تو میں دیکھتا تھا کہ بعض عزیز میرے جو اب وہ دنیا سے گذر بھی گئے دیواروں کے پیچھے بے اختیار روتے تھے اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا اور بار بار دمبدم حاجت ہو کر خون آتا تھا۔سولہ دن برابر ایسی حالت رہی اور اسی بیماری میں میرے ساتھ ایک اور شخص بیمار ہوا تھا۔وہ آٹھویں دن راہی ملک بقا ہو گیا۔حالانکہ اس کے مرض کی شدت ایسی نہ تھی جیسی میری۔جب بیماری کو سولہواں دن چڑھا تو اس دن بکلی حالات یاس ظاہر ہو کر تیسری مرتبہ مجھے سورہ یسین سنائی گئی۔اور تمام عزیزوں کے دل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہو گا۔تب ایسا ہوا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کر کے ایک دعا سکھلائی اور وہ یہ ہے۔سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ۔اور میرے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینہ اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ اس سے تو شفا پائے گا۔چنانچہ جلدی سے دریا کا پانی مع ریت منگوایا گیا اور میں نے اسی طرح عمل کرنا شروع کیا جیسا کہ مجھے تعلیم دی تھی اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی اور تمام بدن