حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 598 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 598

۱۲۸۰ سخت بے قرار ہوا اور دُعا کے لئے ایک خاص توجہ پیدا ہوگئی۔ہر ایک شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹہ کے بعد مر جائے گا۔ناچار اس کو بورڈنگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا اور کسولی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیج دی اور پوچھا گیا کہ اس حالت میں اس کا کوئی علاج بھی ہے؟ اس طرف سے بذریعہ تار جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں۔مگر اس غریب اور بے وطن لڑکے کے لئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہو گئی اور میرے دوستوں نے بھی اس کے لئے دعا کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا۔کیونکہ اس غربت کی حالت میں وہ لڑکا قابل رحم تھا۔اور نیز دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر وہ مر گیا تو ایک بُرے رنگ میں اس کی موت شماتت اعداء کا موجب ہو گی۔تب میرا دل اس کے لئے سخت درد اور بے قراری میں مبتلا ہوا اور خارق عادت توجہ پیدا ہوئی جو اپنے اختیار سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ محض خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتی ہے۔اور اگر پیدا ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے اذن سے وہ اثر دکھاتی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے مردہ زندہ ہو جائے۔غرض اس کے لئے اقبال علی اللہ کی حالت میسر آ گئی۔اور جب وہ توجہ انتہا تک پہنچ گئی اور درد نے اپنا پورا تسلط میرے دل پر کر لیا۔تب اس بیمار پر جو درحقیقت مُردہ تھا اس توجہ کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔اور یا تو وہ پانی سے ڈرتا اور روشنی سے بھاگتا تھا اور یا یک دفعہ طبیعت نے صحت کی طرف رُخ کیا اور اُس نے کہا کہ اب مجھے پانی سے ڈر نہیں آتا۔تب اس کو پانی دیا گیا تو اس نے بغیر کسی خوف کے پی لیا۔بلکہ پانی سے وضو کر کے نماز بھی پڑھ لی اور تمام رات سوتا رہا۔اور خوفناک اور وحشیانہ حالت جاتی رہی۔یہاں تک کہ چند روز تک بکلّی صحت یاب ہو گیا۔میرے دل میں فی الفور ڈالا گیا کہ یہ دیوانگی کی حالت جو اس میں پیدا ہوگئی تھی یہ اس لئے نہیں تھی کہ وہ دیوانگی اس کو ہلاک کرے بلکہ اس لئے تھی کہ تا خدا کا نشان ظاہر ہو۔تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۰ - ۴۸۱) مجھے دماغی کمزوری اور دوران سر کی وجہ سے بہت سی ناطاقتی ہو گئی تھی یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اب میری حالت بالکل تالیف تصنیف کے لائق نہیں رہی اور ایسی کمزوری تھی کہ گویا بدن میں رُوح نہیں تھی۔اس حالت میں مجھے الہام ہوا۔تُرَدَّ إِلَيْكَ اَنْوَارُ الشَّبَابِ۔“ یعنی جوانی کے نور تیری طرف واپس کئے۔بعد اس کے چند روز میں ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری گم شدہ قوتیں پھر واپس آتی جاتی ہیں اور تھوڑے دنوں کے بعد مجھ میں اس قدر طاقت ہو گئی کہ میں ہر روز دو دو جز نو تالیف کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھ سکتا ہوں اور نہ صرف لکھنا بلکہ سوچنا اور فکر کرنا جونئی تالیف کے لئے ضروری ہے پورے طور پر