حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 597 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 597

۱۲۷۹ نے کہہ دیا کہ اب یہ حالت یاس اور نومیدی کی ہے صرف چند روز کی بات ہے۔مجھ میں اُس وقت جوانی کی قوت موجود تھی اور مجاہدات کی طاقت تھی اور میری فطرت ایسی واقع ہے کہ میں ہر ایک بات پر خدا کو قادر جانتا ہوں اور درحقیقت اس کی قدرتوں کا کون انتہا پا سکتا ہے اور اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں بجز ان امور کے جو اس کے وعدہ کے برخلاف یا اس کی پاک شان کے منافی اور اس کی توحید کی ضد ہیں۔اس لئے میں نے اس حالت میں بھی ان کے لئے دعا کرنی شروع کی۔اور میں نے دل میں یہ مقرر کر لیا کہ اس دُعا میں میں تین باتوں میں اپنی معرفت زیادہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک یہ کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا میں حضرت عزت میں اس لائق ہوں کہ میری دُعا قبول ہو جائے۔دوسری یہ کہ کیا خواب اور الہام جو وعید کے رنگ میں آتے ہیں اُن کی تاخیر بھی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ تیسری یہ کہ کیا اس درجہ کا بیمار جس کے صرف استخوان باقی ہیں دُعا کے ذریعہ سے اچھا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ غرض میں نے اس بنا پر دعا کرنی شروع کی پس قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ دعا کے ساتھ ہی تغیر شروع ہو گیا۔اور اس اثنا میں ایک دوسرے خواب میں میں نے دیکھا کہ وہ گویا اپنے دالان میں اپنے قدموں سے چل رہے ہیں۔اور حالت یہ تھی کہ دوسرا شخص کروٹ بدلتا تھا۔جب دعا کرتے کرتے پندرہ دن گزرے تو ان میں صحت کے ایک ظاہری آثار پیدا ہو گئے اور انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میرا دل چاہتا ہے کہ چند قدم چلوں۔چنانچہ وہ کسی قدر سہارے سے اٹھے اور سوٹے کے سہارے سے چلنا شروع کیا اور پھر سوٹا بھی چھوڑ دیا۔چند روز تک پورے تندرست ہو گئے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۶۵ ۲۶۶) پانچواں نشان جو ان دنوں میں ظاہر ہوا وہ ایک دُعا کا قبول ہونا ہے جو درحقیقت احیائے موتی میں داخل ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ عبدالکریم نام ولد عبدالرحمن ساکن حیدر آباد دکن ہمارے مدرسہ میں ایک لڑکا طالب العلم ہے۔قضاء و قدر سے اُسے سگ دیوانہ کاٹ گیا۔ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا۔چند روز تک اس کا کسولی میں علاج ہوتا رہا۔پھر وہ قادیان میں واپس آیا۔تھوڑے دن گذرنے کے بعد اس میں وہ آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے جو دیوانہ کتے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیں اور پانی سے ڈرنے لگا اور خوفناک حالت پیدا ہو گئی۔تب اس غریب الوطن عاجز کے لئے میرا دل