حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 596 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 596

۱۲۷۸ گیا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی۔اور دونوں طرف بن ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے۔کیونکہ اس ضلع کے بعض مواضع میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔تب معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا خوابوں کی تعبیر یہی تھی۔اور دل میں سخت غم پیدا ہوا۔اور میں نے میر صاحب کے گھر کے لوگوں کو کہہ دیا کہ میں تو دعا کرتا ہوں آپ تو بہ واستغفار بہت کریں کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ نے دشمن کو اپنے گھر میں بلایا ہے اور یہ کسی لغزش کی طرف اشارہ ہے۔اور اگر چہ میں جانتا تھا کہ موت فوت قدیم سے ایک قانون قدرت ہے۔لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مر گیا تو ہماری تکذیب میں ایک شور قیامت برپا ہو جائے گا۔اور پھر گومیں ہزار نشان بھی پیش کروں تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی ان کا اثر نہیں ہو گا۔کیونکہ میں صد ہا مرتبہ لکھ چکا ہوں اور شائع کر چکا ہوں اور ہزار ہا لوگوں میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے۔غرض اس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کر سکتا۔میں فی الفور دعا میں مشغول ہو گیا۔اور بعد دُعا کے عجیب نظارہ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارق عادت کے طور پر اسحاق کا تپ اُتر گیا۔اور گلٹیوں کا نام ونشان نہ رہا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ پھر نا چلنا کھیلنا دوڑنا شروع کر دیا گویا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی۔یہی ہے احیائے موتی۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ حضرت عیسی کے احیائے موتی میں اس سے ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا۔اب لوگ جو چاہیں ان کے معجزات پر حاشیے چڑھا ئیں مگر حقیقت یہی تھی۔جو شخص حقیقی طور پر مر جاتا ہے اور اس دنیا سے گذر جاتا ہے اور ملک الموت اس کی رُوح کو قبض کر لیتا ہے وہ ہرگز واپس نہیں آتا۔دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۰ تا ۳۴۲) ایک دفعہ میرے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی نسبت مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ان کی زندگی کے تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔جو زیادہ سے زیادہ پندرہ دن ہیں۔بعد میں وہ یکدفعہ سخت بیمار ہو گئے یہاں تک کہ صرف استخوان باقی رہ گئیں اور اس قدر دبلے ہو گئے کہ چار پائی پر بیٹھے ہوئے نہیں معلوم ہوتے تھے کہ کوئی اس پر بیٹھا ہوا ہے یا خالی چار پائی ہے۔پاخانہ پیشاب اوپر ہی نکل جاتا تھا۔اور بے ہوشی کا عالم رہتا تھا۔میرے والد صاحب میرزا غلام مرتضی مرحوم بڑے حاذق طبیب تھے۔انہوں الزمر :٤٣