حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 583 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 583

۱۲۶۵ ۱۸۸۲ء میں چھپ کر تقسیم کر دیا تھا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دلیپ سنگھ عدن سے واپس ہوا اور اس کی عزت و آسائش میں بہت خطرہ پڑا جیسا کہ میں نے صد ہا آدمیوں کو خبر دی تھی۔( نزول اصیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۰۴) ہمارے ایک مخلص دوست مرزا محمد یوسف بیگ صاحب ہیں جو سامانہ علاقہ ریاست پٹیالہ کے رہنے والے ہیں اور ایک مدت دراز سے ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ اسی تعلق میں تمام عمر رہیں گے اور اسی میں اس دنیا سے گذریں گے۔ایک دفعہ ان کا لڑکا مرزا ابراہیم بیگ مرحوم بیمار ہوا تو انہوں نے میری طرف دعا کے لئے خط لکھا۔ہم نے دُعا کی تو کشف میں دیکھا کہ ابراہیم ہمارے پاس بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بہشت سے سلام پہنچا دو۔جس کے معنے یہی دل میں ڈالے گئے کہ اب ان کی زندگی کا خاتمہ ہے۔اگر چہ دل نہیں چاہتا تھا تا ہم بہت سوچنے کے بعد مرزا محمد یوسف بیگ صاحب کو اس حادثہ سے اطلاع دی گئی اور تھوڑے دنوں کے بعد وہ جوان غریب مزاج فرمانبردار بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے اس جہان فانی سے چل بسا۔نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۰) ہماری ایک لڑکی عصمت بی بی نام تھی۔ایک دفعہ اس کی نسبت الہام ہوا کہ كَرَمُ الْجَنَّةِ دَوْحَةُ الْجَنَّةِ تفہیم یہ تھی کہ وہ زندہ نہیں رہے گی۔سو ایسا ہی ہوا۔ہم اس خیال سے کہ مبادا کسی ناعاقبت اندیش کے دل میں ایسے نشانات کی نسبت کچھ اعتراض پیدا ہو کہ عمر بڑھانے کے لئے دعا کیوں نہ کی گئی اور کی گئی ہو تو وہ قبول کیوں نہ ہوئی۔یہ امر واضح کر دیتے ہیں کہ ایسے الہامات کے بعد ملہم لوگوں کو فطرتاً دو قسم کی حالتیں پیش آتی ہیں۔کبھی تو دعا کی طرف غیب سے توجہ اور جوش دیا جاتا ہے اور وہ اس بات کا نشان ہوتا ہے کہ خدا نے ارادہ فرمایا ہے کہ دعا قبول کرے اور کبھی خدا دعا کو قبول کرنا نہیں چاہتا اور اپنی مرضی کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تب دُعا کرنے والے کی طبیعت پر قبض پیدا کر دیتا ہے اور دعا کے اسباب اور حضور اور جوش کو ظہور میں نہیں آنے دیتا۔( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۹۳) ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں ابتداء اور ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء میں ثانیاً یعنی بذریعہ اشتہار ایک پیشگوئی شائع کی تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سید احمد خان صاحب کے سی۔ایس۔آئی کو کئی قسم کی بلائیں اور مصائب پیش آئیں گی۔چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا کہ اول تو اخیر عمر میں سید صاحب کو ایک جوان بیٹے کی موت کا جانکاہ صدمہ پہنچا اور پھر قوم مسلمانان کا ڈیڑھ لاکھ روپیہ جو ان کی امانت میں تھا ان کا ایک معتمد علیہ شریر