حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 579 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 579

۱۲۶۱ قدر اس نے روپیہ بھیجا۔میری دانست میں دس لاکھ سے کم نہیں۔اب ایما کا کہو کہ یہ مجزہ ہے یا نہیں؟ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴ ۴۹ تا ۴۹۶) ا خدا تعالیٰ نے ایک عام طور پر مجھے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ انسى مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَا نَتَكَ یعنی میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت کا ارادہ کرے گا۔صد ہا دشمن اس پیشگوئی کے مصداق ہو گئے ہیں۔اس رسالہ میں مفصل لکھنے کی گنجائش نہیں۔ان میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں جنہوں نے میری نسبت یہ کہا کہ یہ مفتری ہے طاعون سے ہلاک ہو گا۔خدا کی قدرت کہ وہ خود طاعون سے ہلاک ہو گئے اور اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اپنا یہ الہام پیش کرتے تھے کہ ہمیں خدا نے بتلایا کہ یہ شخص جلد مر جائے گا۔خدا کی شان کہ وہ اپنے ایسے الہاموں کے بعد خود جلد مر گئے اور بعض نے میرے پر بددعائیں کی تھیں کہ وہ جلد ہلاک ہو جائے۔وہ خود جلد ہلاک ہو گئے۔مولوی محی الدین لکھو کے والے کا الہام لوگوں کو یاد ہو گا۔جنہوں نے مجھے کا فرٹھہرایا اور فرعون سے تشبیہ دی اور میرے پر عذاب نازل ہونے کی نسبت الہام شائع کئے آخر آپ ہی ہلاک ہو گئے۔اور کئی سال ہو گئے کہ وہ اس دنیا سے گذر گئے۔ایسا ہی مولوی غلام دستگیر قصوری بھی مجھے گالیاں دینے میں حد سے بڑھ گیا تھا۔جس نے ملکہ سے میرے پر کفر کے فتوے منگوائے تھے وہ بھی بیٹھتے اٹھتے میرے پر بددعا کرتا تھا اور لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ اس کا ورد تھا لیکن چونکہ میں صادق تھا اس لئے غلام دستگیر خدا تعالیٰ کی وَحِي إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ کا شکار ہو گیا اور وہ دائمی ذلت جو میرے لئے اُس نے چاہی تھی اسی پر پڑ گئی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۴۳۵۳) واضح ہو کہ مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کے بعد جو کچھ کا بل میں ظہور میں آیا وہ بھی میرے لئے خدا کی طرف سے ایک نشان ہے کیونکہ مظلوم شہید مرحوم کے قتل سے میری سخت اہانت کی گئی۔اس لئے خدا کے قہر نے کابل پر غضب کی تلوار کھینچی۔اس مظلوم شہید کے قتل کئے جانے کے بعد سخت ہیضہ کا بل میں پھوٹا اور وہ لوگ جو مشورہ شہید مظلوم کے قتل میں شریک تھے اکثر ہیضہ کے شکار ہو گئے اور خود امیر کابل کے گھروں میں بعض موتوں سے ماتم برپا ہو گیا اور کئی ہزار انسان جو اس قتل سے خوش تھے شکار مرگ ہو گئے اور وبائے ہیضہ کا ایسا سخت طوفان آیا کہ کہتے ہیں کہ کابل میں ایسا ہیضہ گذشتہ زمانوں میں بہت کم دیکھنے میں آیا ہے اور الہامِ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهَانَتَكَ اس جگہ بھی پورا ہوا۔