حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 573
۱۲۵۵ زلزلہ سے دیکھتا ہوں میں زمین زیر وزبر وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے ہے سر رہ پر کھڑا نیکیوں کی وہ مولا کریم نیک کو کچھ غم نہیں ہے گو بڑا گرداب ہے کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اس سیل سے حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے (اشتہار النداء مِن وحي السَّماءِ مطبوعه اخبار بدر ۴ رمئی ۱۹۰۵ء صفحه ۴) اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھا ئیں گے دیہات و شہر اور مرغزار آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہو گا کہ تا باندھے ازار یک بیک اک زلزلے سے سخت جنبش کھائیں گے کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیروزبر نالیاں خون کی چلیں گی جیسے آب رودبار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن صبح کر دے گی انہیں مثل درختان چنار ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی راہ کو بھولیں گے ہو کر مست و بےخود راہوار خون سے مُردوں کے کوہستان کے آب رواں سُرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار مضمحل ہو جا ئیں گے اس خوف سے سب جن وانس زار بھی ہوگا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار اک نمونہ قہر کا ہو گا وہ ربانی نشاں آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہ ناشناس اس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دار و مدار وجی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا کچھ دنوں کر صبر ہو کر متقی اور بُردبار یہ گماں مت کر کہ یہ سب بدگمانی ہے معاف قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۲٬۱۵۱) یہ نشان زلزلہ جو ہو چکا منگل کے دن وہ تو اک لقمہ تھا جو تم کو کھلایا ہے نہار اک ضیافت ہے بڑی اے غافلو کچھ دن کے بعد جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار خوب کھل جائے گا لوگوں پر کہ دیں کس کا ہے دیں پاک کر دینے کا تیرتھ کعبہ ہے یا ہردوار پہ وحی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ لیک ممکن ہے کہ ہو کچھ اور ہی قسموں کی مار کچھ ہی ہو پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر فوق عادت ہے کہ سمجھا جائے گا روز شمار