حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 565
۱۲۴۷ پہنچے گی اور میرے منہ کی باتیں پوری ہو جائیں گی یعنی خلق اللہ کا رجوع ہو جائے گا اور مالی نصرتیں ظہور میں آئیں گی تب منکروں کو کہا جائے گا کہ دیکھو کیا وہ باتیں پوری نہیں ہو گئیں جن کے بارے میں تم جلدی کرتے تھے۔چنانچہ آج وہ سب باتیں پوری ہو گئیں۔اس بات کے بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ خدا نے اپنے عہد کو یاد کر کے لاکھوں انسانوں کو میری طرف رجوع دے دیا اور وہ مالی نصرتیں کیں جو کسی کے خواب و خیال میں نہ تھیں۔پس اے مخالفو! خدا تم پر رحم کرے اور تمہاری آنکھیں کھولے ذرا وچو کہ کیا یہ انسانی مکر ہو سکتے ہیں؟ یہ وعدے تو براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانے میں کئے گئے تھے جبکہ قوم کے سامنے ان کا ذکر کرنا بھی ہنسی کے لائق تھا اور میری حیثیت کا اس قدر بھی وزن نہ تھا جیسا کہ رائی کے دانہ کا وزن ہوتا ہے۔تم میں سے کون ہے کہ جو مجھے اس بیان میں ملزم کر سکتا ہے؟ تم میں سے کون ہے کہ یہ ثابت کر سکتا ہے کہ اس وقت بھی ان ہزار ہا لوگوں میں سے کوئی میری طرف رجوع رکھتا تھا۔میں تو براہین احمدیہ کے چھپنے کے وقت ایسا گمنام شخص تھا کہ امرتسر ایک پادری کے مطبع میں جس کا نام رجب علی تھا میری کتاب براہین احمدیہ چھپتی تھی اور میں اس کے پروف دیکھنے کے لئے اور کتاب کے چھپوانے کے لئے اکیلا امرتسر جاتا اور اکیلا واپس آتا تھا اور کوئی مجھے آتے جاتے نہ پوچھتا کہ تو کون ہے اور نہ مجھ سے کسی کو تعارف تھا اور نہ میں کوئی حیثیت قابل تعظیم رکھتا تھا۔میری اس حالت کے قادیان کے آریہ بھی گواہ ہیں جن میں سے ایک شخص شرمیت نام اب تک قادیان میں موجود ہے جو بعض دفعہ میرے ساتھ امرتسر میں پادری رجب علی کے پاس مطبع میں گیا تھا جس کے مطبع میں میری کتاب براہین احمدیہ چھپتی تھی اور تمام یہ پیشگوئیاں اس کا کا تب لکھتا تھا۔اور وہ پادری خود حیرانی سے پیشگوئیوں کو پڑھ کر باتیں کرتا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ایسے معمولی انسان کی طرف ایک دنیا کا رجوع ہو جائے گا۔پر چونکہ وہ باتیں خدا کی طرف سے تھیں۔میری نہیں تھیں اس لئے وہ اپنے وقت میں پوری ہو گئیں اور پوری ہو رہی ہیں ایک وقت میں انسانی آنکھ نے اُن سے تعجب کیا اور دوسرے وقت میں دیکھ بھی لیا۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۷۹ ۸۰) دیکھو خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا گمنام پا کے شہرہ عالم بنا دیا جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا دنیا کی نعمتوں کوئی بھی نہیں رہی جو اس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی