حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 564 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 564

۱۲۴۶ یہاں تک کہ مکہ تک بھی فتوے منگوائے گئے اور قریباً دو سو مولویوں نے میرے پر کفر کے فتوے دیئے بلکہ واجب القتل ہونے کے بھی فتوے شائع کئے گئے لیکن وہ اپنی تمام کوششوں میں نامرادر ہے اور انجام یہ ہوا کہ میری جماعت پنجاب کے تمام شہروں اور دیہات میں پھیل گئی اور ہندوستان میں بھی جا بجا یہ تخم ریزی ہو گئی بلکہ یورپ اور امریکہ کے بعض انگریز بھی مشرف باسلام ہو کر اس جماعت میں داخل ہوئے اور اس قدر فوج در فوج قادیان میں لوگ آئے کہ میکوں کی کثرت سے کئی جگہ سے قادیان کی سڑک ٹوٹ گئی۔اس پیشگوئی کو خوب سوچنا چاہئے اور خوب غور سے سوچنا چاہئے کہ اگر یہ خدا کی طرف سے پیشگوئی نہ ہوتی تو یہ طوفانِ مخالفت جو اٹھا تھا اور تمام پنجاب اور ہندوستان کے لوگ مجھ سے ایسے بگڑ گئے تھے جو مجھے پیروں کے نیچے کچلنا چاہتے تھے ضرور تھا کہ وہ لوگ اپنی جان تو ڑ کوششوں میں کامیاب ہو جاتے اور مجھے تباہ کر دیتے لیکن وہ سب کے سب نامرادر ہے اور میں جانتا ہوں کہ ان کا اس قدرشور اور میرے تباہ کرنے کے لئے اس قدر کوشش اور یہ پر زور طوفان جو میری مخالفت میں پیدا ہوا یہ اس لئے نہیں تھا کہ خدا نے میرے تباہ کرنے کا ارادہ کیا تھا بلکہ اس لئے تھا کہ تا خدا تعالیٰ کے نشان ظاہر ہوں اور تا خدائے قادر جو کسی سے مغلوب نہیں ہو سکتا ان لوگوں کے مقابل پر اپنی طاقت اور قوت دکھلاوے اور اپنی قدرت کا نشان ظاہر کرے۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔کون جانتا تھا اور کس کے علم میں یہ بات تھی کہ جب میں ایک چھوٹے سے بیج کی طرح بویا گیا اور بعد اس کے ہزاروں پیروں کے نیچے کچلا گیا اور آندھیاں چلیں اور طوفان آئے اور ایک سیلاب کی طرح شور بغاوت میرے اس چھوٹے سے تم پر پھر گیا پھر بھی میں ان صدمات سے بچ جاؤں گا؟ سو وہ تم خدا کے فضل سے ضائع نہ ہوا بلکہ بڑھا اور پھولا اور آج وہ ایک بڑا درخت ہے جس کے سایہ کے نیچے تین لاکھ انسان آرام کر رہا ہے۔یہ خدائی کام ہیں جن کے ادراک سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں۔وہ کسی سے مغلوب نہیں ہو سکتا۔اے لوگو! کبھی تو خدا سے شرم کرو! کیا اس کی نظیر کسی مفتری کی سوانح میں پیش کر سکتے ہو۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۱ ۲ تا ۲۶۳) تم دیکھتے ہو کہ باوجود تمہاری سخت مخالفت اور مخالفانہ دُعاؤں کے اس نے مجھے نہیں چھوڑا۔اور ہر میدان میں وہ میرا حامی رہا۔ہر ایک پتھر جو میرے پر چلایا گیا اس نے اپنے ہاتھوں پر لیا۔ہر ایک تیر جو مجھے مارا گیا اس نے وہی تیر دشمنوں کی طرف لوٹا دیا۔میں بے کس تھا اُس نے مجھے پناہ دی۔میں اکیلا تھا اُس نے مجھے اپنے دامن میں لے لیا۔میں کچھ بھی چیز نہ تھا۔مجھے اُس نے عزت کے ساتھ شہرت دی اور لاکھوں انسانوں کو میرا ارادت مند کر دیا پھر وہ اسی مقدس وحی میں فرماتا ہے کہ جب میری مدد تمہیں