حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 562 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 562

۱۲۴۴ دیکھے کہ کیا یہ خدا کے کام ہیں یا انسان کے؟ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۵۱ تا ۴۶۴) براہین احمدیہ میں جو آج سے پچیس برس پہلے تمام ممالک میں شائع ہو چکی ہے یعنی ہر حصہ پنجاب اور ہندوستان اور بلا دعرب اور شام اور کابل اور بخارا غرض تمام بلاد اسلامیہ میں پہنچائی گئی ہے اس میں یہ ایک پیشگوئی ہے رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ۔یعنی خدا کی وحی میں میری طرف سے یہ دعا تھی کہ اے میرے خدا! مجھے اکیلا مت چھوڑ جیسا کہ اب میں اکیلا ہوں اور تجھ سے بہتر کون وارث ہے۔یعنی اگر چہ میں اس وقت اولا د بھی رکھتا ہوں اور والد بھی اور بھائی بھی لیکن روحانی طور پر ابھی میں اکیلا ہی ہوں اور تجھ سے ایسے لوگ چاہتا ہوں جو روحانی طور پر میرے وارث ہوں۔یہ دعا اس آئندہ امر کے لئے پیشگوئی تھی کہ خدا تعالیٰ روحانی تعلق والوں کی ایک جماعت میرے ساتھ کر دے گا جو میرے ہاتھ پر تو بہ کریں گے۔سوخدا کا شکر ہے کہ یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی۔پنجاب اور ہندوستان سے ہزار ہا سعید لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ایسا ہی سرزمین ریاست امیر کابل سے بہت سے لوگ میری بیعت میں داخل ہوئے ہیں اور میرے لئے یہ عمل کافی ہے کہ ہزار ہا آدمیوں نے میرے ہاتھ پر اپنے طرح طرح کے گناہوں سے تو بہ کی ہے اور ہزار ہا لوگوں میں بعد بیعت میں نے ایسی تبدیلی پائی ہے کہ جب تک خدا کا ہاتھ کسی کو صاف نہ کرے ہرگز ایسا صاف نہیں ہوسکتا اور میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرے ہزار ہا صادق اور وفادار مرید بیعت کے بعد ایسی پاک تبدیلی حاصل کر چکے ہیں کہ ایک ایک فردان میں بجائے ایک ایک نشان کے ہے۔اگر چہ یہ درست ہے کہ اُن کی فطرت میں پہلے ہی سے ایک مادہ رشد اور سعادت کا مخفی تھا مگر وہ کھلے طور پر ظاہر نہیں ہوا جب تک انہوں نے بیعت نہیں کی۔غرض خدا کی شہادت سے ثابت ہے کہ پہلے میں اکیلا تھا اور میرے ساتھ کوئی جماعت نہ تھی۔اور اب کوئی مخالف اس بات کو چھپا نہیں سکتا کہ اب ہزار ہا لوگ میرے ساتھ ہیں۔پس خدا کی پیشگوئیاں اس قسم کی ہوتی ہیں جن کے ساتھ نصرت اور تائید الہی ہوتی ہے۔کون اس بات میں مجھے جھٹلا سکتا ہے کہ جب یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ نے فرمائی اور براہین احمدیہ میں درج کر کے شائع کی گئی اس وقت جیسا کہ خدا نے فرمایا میں اکیلا تھا اور بجز خدا کے میرے ساتھ کوئی نہ تھا۔میں اپنے خویشوں کی نگاہ میں بھی حقیر تھا کیونکہ اُن کی راہیں اور تھیں اور میری راہ اور تھی۔اور قادیان کے تمام ہندو بھی باوجود سخت مخالفت کے اس گواہی کے دینے کے لئے مجبور ہوں گے کہ میں در حقیقت اس زمانہ میں ایک گمنامی کی حالت میں بسر کرتا تھا۔اور کوئی نشان اس بات کا موجود نہ تھا کہ اس قدر ارادت اور محبت اور جانفشانی کا