حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 558 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 558

۱۲۴۰ تھا یعنی الف سے حرف یاء تک اور پھر تکمیل دائرہ کی غرض سے الف آدم سے لے کر الف احمد تک صرف مظہریت کا خاتم بنایا تھا اس پر لعنتوں کی مشق کی۔وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ ينْقَلِبُونَ اے لیکن یاد رکھیں کہ یہ گالیاں جو ان کے منہ سے نکلتی ہیں اور یہ تحقیر اور یہ توہین کی باتیں جو ان کے ہونٹوں پر چڑھ رہی ہیں اور یہ گندے کا غذ جو حق کے مقابل پر وہ شائع کر رہے ہیں یہ اُن کے لئے ایک روحانی عذاب کا سامان ہے جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے طیار کیا ہے۔دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے منصوبوں سے اور اپنے بے بنیاد جھوٹوں سے اور اپنے افتراؤں سے اور اپنی ہنسی ٹھٹھے سے خدا کے ارادے کو روک دیں گے یا دنیا کو دھوکا دے کر اس کام کو معرض التواء میں ڈال دیں گے جس کا خدا نے آسمان پر ارادہ کیا ہے۔اگر کبھی پہلے بھی حق کے مخالفوں کو ان طریقوں سے کامیابی ہوئی ہے تو وہ بھی کامیاب ہو جائیں گے۔لیکن اگر یہ ثابت شدہ امر ہے کہ خدا کے مخالف اور اس کے ارادہ کے مخالف جو آسمان پر کیا گیا ہو ہمیشہ ذلت اور شکست اٹھاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کے لئے بھی ایک دن ناکامی اور نامرادی اور رسوائی در پیش ہے۔خدا کا فرمودہ کبھی خطا نہیں گیا اور نہ جائے گا۔وہ فرماتا ہے:۔كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي یعنی خدا نے ابتداء سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سنت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اُس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اُسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پا کر اور اسی میں ہوکر اور اُسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا آیا ہے۔ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا۔کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ جس زمانہ میں ان مولویوں اور ان کے چیلوں نے میرے پر تکذیب اور بد زبانی کے حملے شروع کئے۔اس زمانہ میں میری بیعت میں ایک آدمی بھی نہیں تھا۔گو چند دوست جوانگلیوں پر شمار ہو سکتے تھے میرے ساتھ تھے اور اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار کے قریب بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے کہ جو نہ میری کوشش سے بلکہ اس ہوا کی تحریک سے جو آسمان سے چلی ہے میری طرف دوڑے ہیں۔اب یہ لوگ خود سوچ لیں کہ اس سلسلہ کے برباد کرنے کے لئے کس قدر انہوں نے زور لگائے اور کیا کچھ ہزار جان کا ہی ل الشعراء: ۲۲۸ المجادلة:٢٢