حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 546 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 546

۱۲۲۸ چونکہ مسیح موعود کی رہائش کے قریب تر پنجاب ہے اور مسیح موعود کی نظر کا پہلا محل پنجابی ہیں اس لئے اول یہ کارروائی پنجاب میں شروع ہوئی۔لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دُور نہیں ہے اس لئے اس مسیح کا کافرکش دم ضرور امروہہ تک بھی پہنچے گا یہی ہماری طرف سے دعوی ہے۔اگر مولوی احمد حسن اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد جس کو وہ قسم کے ساتھ شائع کرے گا امروہہ کو طاعون سے بچا سکا اور کم سے کم تین جاڑے امن سے گذر گئے تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔پس اس سے بڑھ کر اور کیا فیصلہ ہوگا اور میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں۔اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف کسوف ہو گا۔اور زمین پر سخت طاعون پڑے گی اور میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اُس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی۔دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۱ تا ۲۳۸) چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ملک میں عام طاعون پڑے گی اور کسی کم مقدار کی حد تک قادیان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گی۔اس لئے اس نے آج کے دنوں سے تیئیس برس پہلے فرما دیا کہ جو شخص اس مسجد اور اس گھر میں داخل ہو گا یعنی اخلاص اور اعتقاد سے وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔اسی کے مطابق ان دنوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا :- إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِى الدَّارِ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوُا مِنْ اِسْتِكْبَارٍ۔وَ أَحَافِظُكَ خَاصَّةً۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيم۔یعنی میں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہو گا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔جاننا چاہئے کہ خدا کی وحی نے اس ارادہ کو جو قادیان کے متعلق ہے دوحصوں پر تقسیم کر دیا ہے۔(۱) ایک وہ ارادہ جو عام طور پر گاؤں کے متعلق ہے اور وہ ارادہ یہ ہے کہ یہ گاؤں اس شدت طاعون سے جو افراتفری اور تباہی ڈالنے والی اور ویران کرنے والی اور تمام گاؤں کو منتشر کرنے والی ہو محفوظ