حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 541 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 541

۱۲۲۳ إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ دَافِعُ الْأَذَى إِنِّى لَايَخَافُ لَدَى الْمُرْسَلُونَ إِنِّي حَفِيظٌ إِنِّي مَعَ الرَّسُولِ أَقُومُ۔وَ الْوُمُ مَنْ يَلُومُ۔أَفْطِرُ وَ اَصُومُ۔غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِيدًا۔اَلْأَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوسُ تُضَاعُ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلَئِكَ لَهُمُ الْآمُنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ إِنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا۔إِنِّي أَجَهْزُ الْجَيْشَ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ۔سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَ فِي أَنْفُسِهِمْ۔نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ مُّبِينٌ۔إِنِّي بَايَعْتُكَ بَايَعَنِيُّ رَبِّى۔اَنْتَ مِنِّى بِمَنْزِلَةِ اَوْلَادِى۔أَنْتَ مِنِّى وَ أَنَا مِنْكَ۔عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔الْفَوقَ مَعَكَ وَ التَّحْتُ مَعَ أَعْدَاءِ كَ فَاصْبِرُ حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِاَمْرِهِ۔يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيْهَا أَحَدٌ۔اب اس تمام وحی سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں۔(۱) اول یہ کہ طاعون دنیا میں اس لئے آئی ہے کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اس کو دکھ دیا گیا اور اس کے قتل کرنے کے لئے منصوبے کئے گئے۔اس کا نام کا فر اور دجال رکھا گیا۔پس خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑ۔۔۔(۲) دوسری بات جو اس وجی سے ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ یہ طاعون اس حالت میں فرو میں رحمان ہوں جو دکھ کو دور کرنے والا ہے۔میرے رسولوں کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں۔میں نگہ رکھنے والا ہوں۔میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا جو میرے رسول کو ملامت کرتا ہے۔میں اپنے وقتوں کو تقسیم کر دوں گا کہ کچھ حصہ برس کا تو میں افطار کروں گا یعنی طاعون سے لوگوں کو ہلاک کروں گا اور کچھ حصہ برس کا میں روزہ رکھوں گا یعنی امن رہے گا اور طاعون کم ہو جائے گی یا بالکل نہیں رہے گی۔میرا غضب بھڑک رہا ہے۔بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہوں گی مگر وہ لوگ جو ایمان لائیں گے اور ایمان میں کچھ نقص نہیں ہوگا۔وہ امن میں رہیں گے اور ان کو مخلصی کی راہ ملے گی۔یہ خیال مت کرو کہ جرائم پیشہ بچے ہوئے ہیں۔ہم ان کی زمین کے قریب آتے جاتے ہیں۔میں اندر ہی اندر اپنا لشکر طیار کر رہا ہوں یعنی طاعونی کیڑوں کو پرورش دے رہا ہوں۔پس وہ اپنے گھروں میں ایسے ہو جائیں گے جیسا کہ ایک اونٹ مرا رہ جاتا ہے ہم ان کو اپنے نشان پہلے تو دور دور کے لوگوں میں دکھا ئیں گے اور پھر خود انہی میں ہمارے نشان ظاہر ہوں گے۔یہ دن خدا کی مدد اور فتح کے ہوں گے میں نے تجھ سے ایک خرید وفروخت کی ہے یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا میں مالک بن گیا تو بھی اس خرید و فروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خرید و فروخت کی۔تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد۔تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔وہ وقت قریب ہے کہ میں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا کہ دنیا تیری حمد و ثناء کرے گی۔فوق تیرے ساتھ ہے اور تحت تیرے دشمنوں کے ساتھ۔پس صبر کر جب تک کہ وعدہ کا دن آجائے۔طاعون پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ کوئی بھی اس میں گرفتار نہیں ہوگا یعنی انجام کار خیر و عافیت ہے