حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 540
۱۲۲۲ آ سکتی ہے۔اور جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت رکھتی ہے۔سوئیں وہ بات مع ثبوت پیش کرتا ہوں۔چار سال ہوئے کہ میں نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ پنجاب میں سخت طاعون آنے والی ہے اور میں نے اس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں۔اگر لوگ تو بہ کریں تو یہ مرض دو جاڑہ سے بڑھ نہیں سکتی خدا اس کو رفع کر دے گا مگر بجائے تو بہ کے مجھ کو گالیاں دی گئیں اور سخت بد زبانی کے اشتہار شائع کئے گئے جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے جواب دیکھ رہے ہو۔خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی اس کی یہ عبارت ہے۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۔أَنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ۔یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دُور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کرلیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دور نہیں ہوگی اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تا تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔اب دیکھو تین برس سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہو گئے۔یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور ہو رہا ہے مگر قادیان طاعون سے پاک ہے بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت ہوگا کہ جو باتیں آج سے چار برس پہلے کہی گئی تھیں وہ پوری ہوگئیں۔بلکہ طاعون کی خبر آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں بھی دی گئی ہے اور یہ علم غیب بجز خدا کے کسی اور کی طاقت میں نہیں۔پس اس بیماری کے دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے بچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔اگر میری طرف سے بھی بغیر کسی دلیل کے صرف دعوئی ہوتا جیسا کہ میاں شمس الدین سیکرٹری حمایت اسلام لاہور نے اپنے اشتہار میں یا پادری وائٹ بریخت صاحب نے اپنے اشتہار میں کیا ہے تو میں بھی اُن کی طرح ایک فضول گوٹھہرتا لیکن میری وہ باتیں ہیں جن کو میں نے قبل از وقت بیان کیا اور آج وہ پوری ہو گئیں اور پھر اس کے بعد ان دنوں میں بھی خدا نے مجھے خبر دی چنانچہ وہ عزّ و جلّ فرماتا ہے۔مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ إِنَّهُ أوَى الْقَرْيَةَ۔لَوْلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمُقَامُ۔لے خدا ایسا نہیں کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو ان میں رہتا ہے۔وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست برد اور اس کی تباہی سے بچالے گا۔اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مد نظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔