حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 538 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 538

۱۲۲۰ اسی طرح یہ تدبیریں محض بے فائدہ بھی نہیں ہیں کیونکہ جہاں جہاں خدا کی مرضی ہے وہاں وہاں اس کا فائدہ بھی محسوس ہو رہا ہے۔مگر وہ فائدہ کچھ بہت خوشی کے لائق نہیں۔مثلا گو سچ ہے کہ اگر مثلاً سو آدمی نے ٹیکا لگوایا ہے اور دوسرے اسی قدر لوگوں نے ٹیکا نہیں لگوایا ہے تو جنہوں نے ٹیکہ نہیں لگوایا ان میں موتیں زیادہ پائی گئیں اور ٹیکا والوں میں کم لیکن چونکہ ٹیکے کا اثر غایت کار دو مہینے یا تین مہینے تک ہے اس لئے ٹیکہ والا بھی بار بار خطرہ میں پڑے گا جب تک اس دنیا سے رخصت نہ ہو جائے۔صرف اتنا فرق ہے کہ جو لوگ ٹیکہ نہیں لگواتے وہ ایک ایسے مرکب پر سوار ہیں کہ جو مثلاً چوبیس گھنٹہ تک ان کو دارالفنا تک پہنچا سکتا ہے اور جو لوگ ٹیکا لگواتے ہیں وہ گویا ایسے آہستہ روٹو پر چل رہے ہیں کہ جو چوبیس دن تک اسی مقام میں پہنچا دے گا بہر حال یہ تمام طریقے جو ڈاکٹری طور پر اختیار کئے گئے ہیں نہ تو کافی اور پورے تسلی بخش ہیں اور نہ محض لکھے اور بے فائدہ ہیں۔اور چونکہ طاعون جلد جلد ملک کو کھاتی جاتی ہے۔اس لئے بنی نوع کی ہمدردی اسی میں ہے کہ کسی اور طریق کو سوچا جائے جو اس تباہی سے بچا سکے۔اور مسلمان لوگ جیسا کہ میاں شمس الدین سیکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کے اشتہار سے سمجھا جاتا ہے جس کو انہوں نے ماہ حال یعنی اپریل ۱۹۰۲ء میں شائع کیا ہے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام فرقے مسلمانوں کے شیعہ سنی مقلد اور غیر مقلد میدانوں میں جا کر اپنے اپنے طریقہ مذہب میں دعا ئیں کریں اور ایک ہی تاریخ میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھیں تو بس یہ ایسا نسخہ ہے کہ معاً اس سے طاعون دُور ہو جائے گی۔مگر اکٹھے کیونکر ہوں۔اس کی کوئی تدبیر نہیں بتلائی گئی۔ظاہر ہے کہ فرقہ وہابیہ کے مذہب کے رو سے تو بغیر فاتحہ خوانی کے نماز درست ہی نہیں۔پس اس صورت میں ان کے ساتھ حنفیوں کی نماز کیونکر ہو سکتی ہے۔کیا باہم فساد نہیں ہو گا ؟ ماسوا اس کے اس اشتہار کے لکھنے والے نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہندو اس مرض کے دفع کے لئے کیا کریں۔کیا ان کو اجازت ہے یا نہیں کہ وہ بھی اس وقت اپنے بتوں سے مدد مانگیں اور عیسائی کس طریق کو اختیار کریں۔اور جو فرقے حضرت حسین یا علی رضی اللہ عنہ کو قاضی الحاجات سمجھتے ہیں اور محرم میں تازیوں پر ہزاروں درخواستیں مرادوں کے لئے گزارا کرتے ہیں۔اور یا جو مسلمان سید عبدالقادر جیلانی کی پوجا کرتے ہیں یا جو شاہ مدار یا سخی سرور کو پوجتے ہیں۔وہ کیا کریں؟ اور کیا اب یہ تمام فرقے دعا ئیں نہیں کرتے ؟ بلکہ ہر ایک فرقہ خوف زدہ ہو کر اپنے اپنے معبود کو پکار رہا ہے۔شیعوں کے محلوں کی سیر کرو۔کوئی ایسا گھر نہیں ہوگا جس کے دروازہ پر یہ شعر چسپاں نہیں ہوگا۔