حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 537
۱۲۱۹ چو آمد از خدا طاعون به بیس از چشم اکرامش تو خود ملعونی اے فاسق چرا ملعوں نہی نامش 1 زمان تو به و وقت صلاح و ترک خبث است این کسے کو بربدی چسپد نہ بینم نیک انجامش ہے اس ہولناک مرض کے بارے میں جو ملک میں پھیلتی جاتی ہے لوگوں کی مختلف رائیں ہیں۔ڈاکٹر لوگ جن کے خیالات فقط جسمانی تدابیر تک محدود ہیں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زمین میں محض قدرتی اسباب سے ایسے کیڑے پیدا ہو گئے ہیں کہ اول چوہوں پر اپنا بد اثر پہنچاتے ہیں اور پھر انسانوں میں سلسلہ موت کا جاری ہو جاتا ہے اور مذہبی خیالات سے اس بیماری کو کچھ تعلق نہیں بلکہ چاہئے کہ اپنے گھروں اور نالیوں کو ہر ایک قسم کی گندگی اور عفونت سے بچاویں اور صاف رکھیں اور فینائل وغیرہ کے ساتھ پاک کرتے رہیں۔اور مکانوں کو آگ سے گرم رکھیں اور ایسا بنادیں جن میں ہوا بھی پہنچ سکے اور روشنی بھی اور کسی مکان میں اس قدر لوگ نہ رہیں کہ اُن کے منہ کی بھاپ اور پاخانہ پیشاب وغیرہ سے کیڑے بکثرت پیدا ہو جائیں۔اور رڈی غذا ئیں نہ کھائیں۔اور سب سے بہتر علاج یہ ہے کہ ٹیکا کرالیں۔اور اگر مکانوں میں چوہے مُردہ پاویں تو ان مکانوں کو چھوڑ دیں۔اور بہتر ہے کہ باہر کھلے میدانوں میں رہیں اور میلے کچیلے کپڑوں سے پر ہیز کریں۔اور اگر کوئی شخص کسی متاثر اور آلودہ مکان سے اُن کے شہر یا گاؤں میں آوے تو اس کو اندر نہ آنے دیں اور اگر کوئی ایسے گاؤں یا شہر کا اس مرض سے بیمار ہو جائے تو اس کو باہر نکالیں اور اس کے اختلاط سے پر ہیز کریں۔پس طاعون کا علاج اس کے نزدیک جو کچھ ہے یہی ہے۔یہ تو دانشمند ڈاکٹروں اور طبیبوں کی رائے ہے جس کو ہم نہ تو ایک کافی اور مستقل علاج کے رنگ میں سمجھتے ہیں اور نہ محض بے فائدہ قرار دیتے ہیں۔اور کافی اور مستقل علاج اس لئے نہیں سمجھتے کہ تجربہ بتلا رہا ہے کہ بعض لوگ باہر نکلنے سے بھی مرے ہیں اور بعض صفائی کا التزام رکھتے رکھتے بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔اور بعض نے بڑی امید سے ٹیکا لگوایا اور پھر قبر میں جا پڑے۔پس کون کہہ سکتا ہے یا کون ہمیں تسلی دے سکتا ہے کہ یہ تمام تدبیریں کافی علاج ہیں۔بلکہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ گو یہ تمام طریقے کسی حد تک مفید ہیں۔لیکن یہ ایسی تدبیر نہیں ہے جس کو طاعون کو ملک سے دفع کرنے کے لئے پوری کامیابی کہہ سکیں۔ا جب خدا کی طرف سے طاعون کا عذاب نازل ہوا تو اس کو اکرام کی نظر سے دیکھ کیونکہ اے فاسق تو خود ملعون ہے اس کا نام ملعون کیوں رکھتا ہے۔یہ زمانہ تو بہ اور اصلاح اور خبائث کے ترک کرنے کا وقت ہے۔اور جو اس کو بدی پر اطلاق کرتا ہے میں اس کا نیک انجام نہیں دیکھتا۔