حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 536
۱۲۱۸ بجالا ویں۔نماز کے پابند ہوں۔ہر ایک فسق و فجور سے پر ہیز کریں۔تو بہ کریں اور نیک بختی اور خدا ترسی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوں۔غریبوں اور ہمسائیوں اور یتیموں اور بیواؤں اور مسافروں اور در ماندوں کے ساتھ نیک سلوک کریں اور صدقہ اور خیرات دیں اور جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھیں اور نماز میں اس بلا سے محفوظ رہنے کے لئے رو رو کر دعا کریں۔پچھلی رات اٹھیں اور نماز میں دعائیں کریں۔غرض ہر قسم کے نیک کام بجالائیں اور ہر قسم کے ظلم سے بچیں اور اس خدا سے ڈریں جو اپنے غضب سے ایک دم میں ہی دنیا کو ہلاک کر سکتا ہے۔یا درکھو کہ سخت خطرہ کے دن ہیں اور بلا دروازہ پر ہے۔نیکی اختیار کرو اور نیک کام بجالاؤ۔خدا تعالیٰ بہت حلیم ہے لیکن اس کا غضب بھی کھا جانے والی آگ ہے اور نیک کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔مَايَفْعَلُ اللهُ بِعَدَ ابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمُ بترسید از خدائے بے نیاز و سخت تمہارے نه پندارم که بد بیند خدا ترسے نکوکارے لے مرا باور نمی آید که رسوا گردد آن مردی که می ترسد ازاں بارے کہ غفارست وستارے سے گر آں چیزے کہ می بینم عزیزان نیز دیدند از دنیا تو به کردند بچشم زار و خونبارے سے خور تاباں سیه گشت ست از بدکاری مردم زمیں طاعون ہمی آرد پئے تخویف و انذارے کے به تشویش قیامت ماند ایں تشویش گر بینی علاجے نیست بہر دفع آن جز حسن کردارے ۵ نشاید تافتن سرزاں جناب عزت و غیرت که گر خواہد کشد در یکدمے چوں کرم بریکاری 1 من از همدردی است گفتم تو خود ہم فکر کن بارے خرد از بہر ایں روزست اے دانا و ہشیارے کے تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ۲ ، ۷۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۸۳ تا ۱۸۷ بار دوم )۔لے لوگو! بے نیاز اور فناء خدا سے ڈرو۔میں نہیں سمجھتا کہ متقی اور نیک آدمی کبھی نقصان اٹھاتا ہو۔مجھے تو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص کبھی رسوا ہوا ہو جو اس یار سے ڈرتا ہے جو غفا روستا ر ہے۔اگر وہ چیز جسے میں دیکھ رہا ہوں دوست بھی دیکھتے تو حصول دنیا سے رو رو کر تو بہ کرتے۔ے لوگوں کی بدکاریوں سے چمکتا ہوا سورج بھی سیاہ ہو گیا اور زمین بھی ڈرانے کی خاطر طاعون لا رہی ہے۔یہ مصیبت قیامت کی مانند ہے اگر تو غور کرے اور اس کے دور کرنے کا علاج سوائے نیک اعمال کے اور کچھ نہیں۔اس بارگاہ عالی سے سرکشی نہیں کرنی چاہیے اگر وہ چاہے تو ایک دم میں نکھے کیڑے کی طرح تجھے فنا کر دے۔کے میں نے ہمدردی سے یہ بات کی ہے اب تو خود غور کر لے اسے سمجھ دار انسان ، عقل اسی دن کے لیے ہوا کرتی ہے۔