حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 50
۷۳۲ ہے۔وَالَّذِينَ آمَنُوْا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر لے یعنی جو لوگ دنیا میں ایمان کا نور رکھتے ہیں اُن کا نور قیامت کو اُن کے آگے اور اُن کی داہنی طرف دوڑتا ہو گا۔وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ اے خدا ہمارے نور کو کمال تک پہنچا اور اپنی مغفرت کے اندر ہمیں لے لے تو ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ہمارے نور کو کمال تک پہنچا یہ ترقیات غیر متناہیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایک کمال نورانیت کا انہیں حاصل ہو گا۔پھر دوسرا کمال نظر آئے گا۔اس کو دیکھ کر پہلے کمال کو ناقص پائیں گے۔پس کمال ثانی کے حصول کے لئے التجا کریں گے اور جب وہ حاصل ہو گا تو ایک تیسرا مرتبہ کمال کا اُن پر ظاہر ہو گا پھر اس کو دیکھ کر پہلے کمالات کو بیچ سمجھیں گے اور اس کی خواہش کریں گے۔یہی ترقیات کی خواہش ہے جو اتمم کے لفظ سے سمجھی جاتی ہے۔غرض اسی طرح غیر متناہی سلسلہ ترقیات کا چلا جائے گا۔تنزل کبھی نہیں ہوگا اور نہ کبھی بہشت سے نکالے جائیں گے بلکہ ہر روز آگے بڑھیں گے اور پیچھے نہ ہٹیں گے۔اور یہ جو فرمایا کہ وہ ہمیشہ اپنی مغفرت چاہیں گے۔اس جگہ سوال یہ ہے کہ جب بہشت میں داخل ہو گئے تو پھر مغفرت میں کیا کسر رہ گئی۔اور جب گناہ بخشے گئے تو پھر استغفار کی کون سی حاجت رہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مغفرت کے اصل معنے یہ ہیں نا ملائم اور ناقص حالت کو نیچے دبانا اور ڈھانکنا۔سو بہشتی اس بات کی خواہش کریں گے کہ کمال تام حاصل کریں اور سراسر نور میں غرق ہو جائیں۔وہ دوسری حالت کو دیکھ کر پہلی حالت کو ناقص پائیں گے پس چاہیں گے کہ پہلی حالت نیچے دبائی جائے۔پھر تیسرے کمال کو دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ دوسرے کمال کی نسبت مغفرت ہو یعنی وہ حالت ناقصہ نیچے دبائی جاوے اور مخفی کی جاوے۔اسی طرح غیر متناہی مغفرت کے خواہش مند رہیں گے۔یہ وہی لفظ مغفرت اور استغفار کا ہے جو بعض نادان بطور اعتراض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیش کیا کرتے ہیں۔سو ناظرین نے اس جگہ سے سمجھ لیا ہو گا کہ یہی خواہش استغفار فخر انسان ہے۔جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفار اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے نہ انسان اور اندھا ہے نہ سو جا کھا اور نا پاک ہے نہ طیب۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۸ تا ۴۱۳) التحريم: 9