حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 534 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 534

۱۲۱۶ کرے۔یہ طریق نہایت سادہ اور راستی کا فیصلہ ہے شائد اس طریق سے ہمارے مخالف مولویوں کو بھی فائدہ پہنچے۔میں نے سچے دل سے یہ لکھا ہے۔مگر یادر ہے کہ ایسی آزمائش کرنے والا خود قادیان میں آوے۔اس کا کرایہ میرے ذمہ ہو گا۔جانبہین کی تحریرات چھپ جائیں گی اگر خدا نے اس کو ایسے عذاب سے ہلاک نہ کیا جس میں انسان کے ہاتھوں کی آمیزش نہ ہو تو میں کاذب ٹھہروں گا اور تمام دنیا گواہ رہے کہ اس صورت میں میں اسی سزا کے لائق ٹھہروں گا جو مجرم قتل کو دینی چاہئے۔سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۱ تا ۲۹) جب میری پیشگوئی کے مطابق لیکھرام کے قتل ہو جانے پر آریوں میں میری نسبت بہت شور مچا اور میرے قتل یا گرفتار ہونے کے لئے سازشیں کیں۔چنانچہ بعض اخبار والوں نے ان باتوں کو اپنی اخباروں میں بھی درج کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہوا۔سلامت بر تو اے وو مرد سلامت“ چنانچہ یہ الہام بذریعہ اشتہار کے شائع کیا گیا۔اور اس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مجھے مخالفین کے مکر و فریب اور منصوبوں سے محفوظ رکھا۔طاعون (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ا۵۷) اس مرض نے جس قدر بمبئی اور دوسرے شہروں اور دیہات پر حملے کئے اور کر رہی ہے ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔دو سال کے عرصہ میں ہزاروں بچے اس مرض سے یتیم ہو گئے اور ہزار ہا گھر ویران ہو گئے۔دوست اپنے دوستوں سے اور عزیز اپنے عزیزوں سے ہمیشہ کے لئے جدا کئے گئے اور ابھی انتہا نہیں۔کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ نے کمال ہمدردی سے تدبیریں کیں اور اپنی رعایا پر نظر شفقت کر کے لکھوکھا روپیہ کا خرچ اپنے ذمہ ڈال لیا اور قواعد طبیہ کے لحاظ سے جہاں تک ممکن تھا ہدایتیں شائع کیں مگر اس مرض مہلک سے اب تک بکلی امن حاصل نہیں ہوا بلکہ بمبئی میں ترقی پر ہے۔اور کچھ شک نہیں کہ ملک پنجاب بھی خطرہ میں ہے۔ہر ایک کو چاہئے کہ اس وقت اپنی اپنی سمجھ اور بصیرت کے موافق نوع انسان کی ہمدردی میں مشغول ہو کیونکہ وہ شخص انسان نہیں جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔۔اور ایک اور ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے اور میں