حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 533 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 533

۱۲۱۵ ایک اور بات سوچنے کے لائق ہے کہ یہ بدگمانی کہ اُن کے کسی مرید نے مار دیا ہوگا یہ شیطانی خیال ہے۔ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ مریدوں کا مرشد کے ساتھ ایک نازک تعلق ہوتا ہے اور اعتقاد کی بناء تقویٰ اور طہارت اور نیکو کاری پر ہوتی ہے۔لوگ جو کسی کے مرید ہوتے وہ اسی نیت سے مرید ہوتے ہیں کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ شخص باخدا ہے اس کے دل میں کوئی فریب اور فساد کی بات نہیں۔پس اگر وہ ایک ایسا بد کار اور لعنتی شخص ہے کہ کسی کی موت کی جھوٹی پیشگوئی اپنی طرف سے بناتا ہے اور پھر جب اس کی میعاد ختم ہونے پر ہوتی ہے تو کسی مرید کے آگے ہاتھ جوڑتا ہے کہ اب میری عزت رکھ لے اور اپنے گلے میں رسہ ڈال اور مجھے سچا کر کے دکھلا۔اب میں منصفوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسے پلید اور لعنتی انسان کا یہ چال چلن دیکھ کر اور یہ شیطانی منصو بہ سن کر کوئی مرید اس کا معتقد رہ سکتا ہے؟ کیا وہ مرشد کو ایک بد کار ملعون اور فاسق فاجر خیال نہیں کرے گا ؟ اور کیا وہ اُس کو یہ نہیں کہے گا کہ اے بدکار ہمارے ایمان کو خراب کرنے والے کیا تیری پیشگوئیوں کی اصلیت یہی تھی؟ کیا تیرا یہ منشا ہے کہ جھوٹ تو تو بولے اور رشتہ دوسرے کے گلے میں پڑے اور اس طرح تیری پیشگوئی پوری ہو۔۔ہم بآواز بلند کہتے ہیں کہ ہماری جماعت نہایت نیک چلن اور مہذب اور پر ہیز گار لوگ ہیں۔کہاں ہے کوئی ایسا پلید اور لعنتی ہمارا مرید جس کا یہ دعوی ہو کہ ہم نے اس کو لیکھرام کے قتل کے لئے مامور کیا تھا؟ ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیشگوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے، اپنے مکر سے، اپنے فریب سے اُن کے پوری ہونے کے لئے کوشش کرے اور کرا دے۔۔اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دُور نہیں ہو سکتا اور مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے سارا قصہ فیصلہ ہو جائے۔اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ ”میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔پس اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اے قادر خدا! ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہو مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہئے۔اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا دے تو اس طریق کو اختیار