حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 532 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 532

۱۲۱۴ بھی عداوت نہیں بلکہ اس شخص نے سچائی سے دشمنی کی اور ایک ایسے کامل اور مقدس کو جو تمام سچائیوں کا چشمہ تھا تو ہین سے یاد کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے ایک پیارے کی دنیا میں عزت ظاہر کرے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔لیکھرام پشاوری کی نسبت ایک اور خبر (مندرجہ حاشیہ انکل ہی برکات الدعاء) آج جو ۲ را پریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ ہے صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں۔اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اس کے چہرہ پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شداد غلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی۔اور میں اُس کو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھر ام کہاں ہے؟ اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے۔تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھر ام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کے لئے مامور کیا گیا ہے مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے۔ہاں یہ یقینی طور پر یا د رہا ہے کہ وہ دوسرا شخص انہیں چند آدمیوں میں سے تھا جن کی نسبت میں اشتہار دے چکا ہوں اور یہ یکشنبہ کا دن اور ۴ بجے صبح کا وقت تھا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔اس تمام پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ یہ ایک ہیبت ناک واقعہ ہو گا جو چھ سال کے اندر وقوع میں آئے گا اور وہ دن عید کے دن سے ملا ہوا ہو گا یعنی دوسری شوال کی ہوگی۔اب سوچو کیا یہ انسان کا کام ہے کہ تاریخ بتلائی گئی۔دن بتلایا گیا۔سبب موت بتلایا گیا اور اس حادثہ کا وقوعہ ہیبت ناک طرز سے ظہور میں آنا بتلایا گیا۔اس کا تمام نقشہ برکات الدعاء کے مضمون میں کھینچ کر دکھلایا گیا۔کیا یہ کسی منصوبہ باز کا کام ہو سکتا ہے کہ چھ برس پہلے ایسے صریح نشانوں کے ساتھ خبر دے دے۔وہ خبر پوری ہو جائے۔توریت گواہی دیتی ہے کہ جھوٹھے نبی کی پیشگوئی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔خدا اس کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے تا دنیا تباہ نہ ہو۔جیسا کہ لیکھرام نے بھی ایک دنیوی چالا کی سے انہیں دنوں میں میری نسبت یہ اشتہار دیا تھا کہ تم تین برس کے عرصہ تک مر جاؤ گے۔پس کیوں وہ کسی قاتل سے سازش نہ کر سکا تا اس کی بات پوری ہوتی۔