حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 528 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 528

۱۲۱۰ ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔اول (اشتہار ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء میں پنڈت لیکھرام کی نسبت صرف اس قدر صفحہ ۴ میں پیشگوئی ہے کہ لیکھرام صاحب پشاوری کی قضا و قدر وغیرہ کے متعلق غالبا اس رسالہ میں بقید وقت و تاریخ کچھ تحریر ہوگا۔اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیشگوئی شاق گزرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیشگوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جائے اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جائے اور کسی کو اس کے وقت ظہور سے خبر نہ دی جائے۔پھر بعد اس کے پنڈت لیکھرام کا کارڈ پہنچا کہ میں اجازت دیتا ہوں کہ میری موت کی نسبت پیشگوئی کی جائے مگر میعاد مقرر ہونی چاہئے۔دوم الہام مندرجہ رساله کرامات الصادقین مطبوعه صفر ۱۳۱۱ ہجری وَعَدَنِي رَبِّي وَ اسْتَجَابَ دُعَائِي فِي رَجُلٍ مُفْسِدِ عَدُوَّ اللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ الْمُسَمَّى ليكهرَامِ الْفَشَاوَرِى وَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مِنَ الْهَالِكِينَ إِنَّهُ كَانَ يَسُبُّ نَبِيَّ اللهِ وَ يَتَكَلَّمُ فِي شَانِهِ بِكَلِمَاتٍ خَبِيثَةٍ فَدَعَوْتُ عَلَيْهِ فَبَشَّرَنِي رَبِّي بِمَوْتِهِ فِي سِتَّةِ سَنَةٍ إِنَّ فِي ذَالِكَ لَآيَاتٍ لِلطَّالِبِينَ۔“ یعنی خدا تعالیٰ نے ایک دشمن اللہ اور رسول کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے اور نا پاک کلمے زبان پر لاتا ہے۔جس کا نام لیکھرام ہے مجھے وعدہ دیا اور میری دُعاسنی اور جب میں نے اس پر بددعا کی تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔یہ ان کے لئے نشان ہے جو بچے مذہب کو ڈھونڈتے ہیں۔سوم الهام مندرجہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء مشموله کتاب آئینہ کمالات اسلام۔یکھرام بشاوری کی نسبت ایک پیشگوئی واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضاء و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں کی جائیں۔سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو۔میری طرف سے اجازت ہے۔سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو