حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 526 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 526

۱۲۰۸ اس کے قتل کی طرف اشارہ تھا۔چنانچہ لیکھر ام شنبہ کے دن قتل کیا گیا اور ان دنوں میں شنبہ سے پہلے جمعہ کے دن مسلمانوں کی عید ہوئی تھی۔ایسا ہی گوسالہ سامری بھی شنبہ کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور وہ یہود کی عید کا دن تھا اور گوسالہ سامری ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد جلایا گیا تھا، ایسا ہی لیکھرام بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد جلایا گیا۔کیونکہ اول قاتل نے اس کی انتریوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور پھر ڈاکٹر نے اُس کے زخم کو زیادہ کھولا اور بالآ خر جلایا گیا۔اور پھر گوسالہ سامری کی طرح اس کی ہڈیاں دریا میں ڈالی گئیں۔اور خدا تعالیٰ نے گوسالہ سامری سے اس لئے اس کو تشبیہ دی کہ وہ گوسالہ محض بے جان تھا اور اس زمانہ کے ان کھلونے کی طرح تھا جن کی کل دبانے سے آواز نکلتی ہے۔اسی طرح اس گوسالہ میں سے ایک آواز نکلتی تھی۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ در اصل لیکھرام بے جان تھا اور اس میں روحانی زندگی نہیں آئی تھی۔اور اس کی آواز محض گوسالہ سامری کی طرح تھی اور سچا علم اور سچا گیان اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق اور سچی محبت اس کو نصیب نہیں تھی۔یہ آریوں کا قصور تھا کہ اس بے جان کو جس میں روحانیت کی جان نہ تھی اور محض مُردہ تھا اس مقام پر کھڑا کر دیا جس پر کوئی زندہ کھڑا ہونا چاہئے تھا۔اس لئے اس کا گوساله سامری کی طرح انجام ہوا۔۔۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ خون ان کی گردن پر ہے۔وہ باوجود اس قدر جوش کے اپنی طبیعت میں ایک سادگی بھی رکھتا تھا کیونکہ شریر لوگوں کی باتوں سے بغیر تفتیش اور تشخص کے متاثر ہو جاتا تھا اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اس کو ایک گوسالہ سے مشابہت دی۔بہر حال ہم اس کی ناگہانی موت سے بغیر افسوس کے نہیں رہ سکتے۔مگر کیا کیا جائے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر تھا وہ پورا ہونا ضروری تھا۔اس امر کو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ مجھے کسی سے بغض نہیں ہے۔اگر چہ میں لیکھرام کے معاملہ میں اس بات سے تو خوش ہوں کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہوئی مگر دوسرے پہلو سے میں غمگین ہوں کہ وہ عین جوانی کی حالت میں مرا۔اگر وہ میری طرف رجوع کرتا تو میں اس کے لئے دُعا کرتا تا یہ بلائل جاتی۔اس کے لئے ضروری نہ تھا کہ اس بلا کے رڈ کرانے کے لئے وہ مسلمان ہو جاتا بلکہ صرف اس قدر ضروری تھا کہ گالیوں اور گندہ زبانی سے اپنے منہ کو روک لیتا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴ ۲۹ تا ۳۰۲) اب ہم لیکھرام کی پیشگوئی کو مفصل طور پر مع اصل عبارات ان کتابوں کے اس جگہ درج کرتے ہیں جن میں یہ پیشگوئی موجود ہے۔اور ناظرین کو توجہ دلاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا خوف کر کے ان مقامات کو