حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 49
۷۳۱ اور وہمی ہے۔جو لوگ ان تینوں قوتوں کو اخلاقی رنگ میں نہیں لاتے اور ان کی تعدیل نہیں کرتے ان کی یہ قو تیں قیامت میں اس طرح پر نمودار کی جائیں گی کہ گویا تین شاخیں بغیر پتوں کے کھڑی ہیں اور گرمی سے بچا نہیں سکتیں اور وہ گرمی سے جلیں گے۔پھر ایسا ہی خدا تعالیٰ اپنی اسی سنت کے اظہار کے لئے بہشتیوں کے حق میں فرماتا ہے۔يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ یعنی اس روز تو دیکھے گا کہ مومنوں کا یہ نور جو دنیا میں پوشیدہ طور پر ہے ظاہر ظاہر ان کے آگے اور ان کی دا ہنی طرف دوڑتا ہو گا۔اور پھر ایک اور آیت میں فرماتا ہے۔يَوْمَ تَبْيَضُ وُجُوهٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوهٌ لا يعني أس ، یعنی دن بعض منہ سیاہ ہو جائیں گے اور بعض سفید اور نورانی ہو جائیں گے۔اور پھر ایک اور آیت میں فرماتا ہے۔مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهُرُ مِنْ مَّا غَيْرِ اسِنٍ وَأَنْهُرُ مِنْ نَبَن لَمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُهُ وَأَنْهُرُ مِنْ خَمْرٍ لَذَةٍ لِلشَّرِبِيْنَ وَأَنْهُرٌ مِّنْ عَسَلٍ مصفی کے یعنی وہ بہشت جو پرہیز گاروں کو دی جائے گی اُس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک باغ ہے اس میں اس پانی کی نہریں ہیں جو کبھی متعفن نہیں ہوتا اور نیز اس میں اس دودھ کی نہریں ہیں جس کا کبھی مزہ نہیں بدلتا اور نیز اس میں اس شراب کی نہریں ہیں جو سراسر سُرور بخش ہے جس کے ساتھ خمار نہیں اور نیز اس میں اس شہد کی نہریں ہیں جو نہایت صاف ہے جس کے ساتھ کوئی کثافت نہیں۔اس جگہ صاف طور پر فرمایا کہ اس بہشت کو مثالی طور پر یوں سمجھ لو کہ ان تمام چیزوں کی اس میں نا پیدا کنار نہریں ہیں۔وہ زندگی کا پانی جو عارف دنیا میں روحانی طور پر پیتا ہے اس میں ظاہری طور پر موجود ہے اور وہ روحانی دودھ جس سے وہ شیر خوار بچہ کی طرح رُوحانی طور پر دنیا میں پرورش پاتا ہے بہشت میں ظاہر ظاہر دکھائی دے گا اور وہ خدا کی محبت کی شراب جس سے وہ دنیا میں روحانی طور پر ہمیشہ مست رہتا تھا اور اب بہشت میں ظاہر ظاہر اُس کی نہریں نظر آئیں گی۔اور وہ حلاوت ایمانی کا شہد جو دنیا میں روحانی طور پر عارف کے منہ میں جاتا تھا وہ بہشت میں محسوس اور نمایاں نہروں کی طرح دکھائی دے گا اور ہر ایک بہشتی اپنی نہروں اور اپنے باغوں کے ساتھ اپنی روحانی حالت کا اندازہ برہنہ کر کے دکھلاوے گا اور خدا بھی اس دن بہشتیوں کے لئے حجابوں سے باہر آ جائے گا۔غرض روحانی حالتیں مخفی نہیں رہیں گی بلکہ جسمانی طور پر نظر آئیں گی۔تیسرادقیقہ معرفت کا یہ ہے کہ عالم معاد میں ترقیات غیر متناہی ہوں گی۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا الحديد : ١٣ ال عمران: ۱۶۰ ۳ محمد: ۱۶