حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 518 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 518

۱۲۰۰ ۱۴ر جون ۱۸۹۹ء میں جو مطابق ۴ رصفر ۱۳۱۷ ھ تھی بروز چہارشنبہ پورا کر دیا۔یعنی وہ مولود مسعود چوتھا لڑکا تاریخ مذکورہ میں پیدا ہو گیا۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۲۱) خدا تعالیٰ نے حمل کے ایام میں ایک لڑکی کی بشارت دی اور اُس کی نسبت فرمایاتُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ یعنی زیور میں نشو و نما پائے گی۔یعنی نہ خوردسالی میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی۔چنانچہ بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا۔۔مجھے وحی الہی سے بتلایا گیا کہ ایک اور لڑکی پیدا ہوگی مگر وہ فوت ہو جائے گی۔چنانچہ وہ الہام قبل از وقت بہتوں کو بتلایا گیا۔بعد اس کے وہ لڑکی پیدا ہوئی اور چند ماہ بعد فوت ہوگئی۔اس لڑکی کے بعد ایک اور لڑکی کی بشارت دی گئی جس کے الفاظ یہ تھے کہ دخت کرام۔چنانچہ وہ الہام الحکم اور البدر اخباروں میں اور شائد ان دونوں میں سے ایک میں شائع کیا گیا اور پھر اس کے بعد لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام امتہ الحفیظ رکھا گیا اور وہ اب تک زندہ ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۲۷-۲۲۸) یہ چار لڑ کے ہیں جن کی پیدائش سے پہلے اُن کے پیدا ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک دفعہ پر مجھے خبر دی اور یہ ہر چہار پیشگوئی نہ صرف زبانی طور پر لوگوں کو سنائی گئیں بلکہ پیش از وقت اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعہ سے لاکھوں انسانوں میں مشتہر کی گئیں اور پنجاب اور ہندوستان بلکہ تمام دنیا میں اس عظیم الشان غیب گوئی کی نظیر نہیں ملے گی اور کسی کی کوئی پیشگوئی ایسی نہیں پاؤ گے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ نے چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی اکٹھی خبر دی اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے الہام سے اطلاع کر دی کہ وہ پیدا ہونے والا ہے اور پھر وہ تمام پیشگوئیاں لاکھوں انسانوں میں شائع کی جائیں۔تمام دنیا میں پھرو۔اگر اس کی کہیں نظیر ہے تو پیش کرو انسان کو جرات نہیں ہو سکتی کہ یہ منصوبہ سوچے کہ اول تو مشترک طور پر چارلڑکوں کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرے۔جیسا کہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی۔اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اُس کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرتا جائے اور اس کے مطابق لڑکے پیدا ہوتے جائیں۔یہاں تک کہ چار کا عدد جو پہلی پیشگوئیوں میں قرار دیا تھا وہ پورا ہو جائے حالانکہ یہ پیشگوئی اس کی طرف سے ہو کہ جو محض افترا سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کا مامور قرار دیتا ہے۔کیا ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ مفتری کی ایسی مسلسل طور پر مدد کرتا جائے کہ ۱۸۸۶ء سے لغایت سن ۱۸۹۹ء چودہ سال تک برابر وہ مدد جاری رہے۔کیا کبھی