حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 48
۷۳۰ نابینائی اس جہان میں جسمانی طور پر مشہود اور محسوس ہو گی۔ایسا ہی دوسری آیت میں فرماتا ہے۔خُذُوهُ فَغُلُوهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ یعنی اس جہنمی کو پکڑو۔اس کی گردن میں طوق ڈالو۔پھر دوزخ میں اس کو جلاؤ۔پھر ایسی زنجیر میں جو پیمائش میں ستر گز ہے اس کو داخل کرو۔جاننا چاہئے کہ ان آیات میں ظاہر فرمایا ہے کہ دنیا کا روحانی عذاب عالم معاد میں جسمانی طور پر نمودار ہو گا۔چنانچہ طوق گردن دنیا کی خواہشوں کا جس نے انسان کے سر کو زمین کی طرف جھکا رکھا تھا وہ عالم ثانی میں ظاہری صورت میں نظر آ جائے گا اور ایسا ہی دنیا کی گرفتاریوں کی زنجیر پیروں میں پڑی ہوئی دکھائی دے گی اور دنیا کی خواہشوں کی سوزشوں کی آگ ظاہر بھڑ کی ہوئی نظر آئے گی۔فاسق انسان دنیا کی زندگی میں ہوا و ہوس کا ایک جہنم اپنے اندر رکھتا ہے اور ناکامیوں میں اس جہنم کی سوزشوں کا احساس کرتا ہے۔پس جبکہ اپنی فانی شہوات سے دور ڈالا جائے گا اور ہمیشہ کی نا امیدی طاری ہوگی تو خدا تعالیٰ ان حسرتوں کو جسمانی آگ کے طور پر اس پر ظاہر کرے گا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ ہے یعنی ان میں اور ان کی خواہشوں کی چیزوں میں جدائی ڈالی جائے گی اور یہی عذاب کی جڑھ ہو گی اور پھر جو فرمایا کہ سترگز کی زنجیر میں اس کو داخل کرو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک فاسق بسا اوقات ستر برس کی عمر پالیتا ہے۔بلکہ کئی دفعہ اس دنیا میں اس کو ایسے ستر برس بھی ملتے ہیں کہ خوردسالی کی عمر اور پیر فرتوت ہونے کی عمر الگ کر کے پھر اس قدر صاف اور خالص حصہ عمر کا اس کو ملتا ہے جو عقلمندی اور محنت اور کام کے لائق ہوتا ہے لیکن وہ بد بخت اپنی عمدہ زندگی کے ستر برس دنیا کی گرفتاریوں میں گذارتا ہے اور اس زنجیر سے آزاد ہونا نہیں چاہتا۔سو خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ وہی ستر برس جو اس نے گرفتاری دنیا میں گزارے تھے عالم معاد میں ایک زنجیر کی طرح مستمثل ہو جائیں گے جوستر گز کی ہوگی۔ہر ایک گز بجائے ایک سال کے ہے۔اس جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے بندہ پر کوئی مصیبت نہیں ڈالتا بلکہ وہ انسان کے اپنے ہی بُرے کام اُس کے آگے رکھ دیتا ہے۔پھر اسی اپنی سنت کے اظہار میں خدا تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔انطَلِقُوا إلى ظل ذِي ثَلْثِ شَعَبٍ لَّا ظَلِيْلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللهَبِ سے یعنی اے بدکارو، گرا ہو! سہ گوشہ سایہ کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں جو سایہ کا کام نہیں دے سکتیں اور نہ گرمی سے بچا سکتی ہیں۔اس آیت میں تین شاخوں سے مراد قوت سبھی اور بہیمی الحاقة: ٣٢،٣١ سبا : ۵۵ المرسلات: ٣٢،٣١